ایک مقتدی ہو تو جماعت کس طرح پڑھے

                اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں اگر مسجد میں امام صاحب ہی ہے اور ایک ہی مقتدی ہے تو کیا جماعت ہو جایگی گی مکمل جواب عنایت فرماۓ یعنی امام صاحب اور مقتدی ہی ہے

              المستفتی محمد عرفان رضوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمةاللّٰہ وبرکاتہ 

                  الجواب بعون الملک الوہاب 

دو آدمیوں کی جماعت ہو سکتی ہے اس کی صورت یہ ہوگی کہ ایک امام بنے اور دوسرا مقتدی حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ۞دو یا دو سے زیادہ (مردوں ) پر جماعت ہے۔(ابن ماجه، السنن، کتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب الاثنان جماعة،جلد١ ص٥٢٢، رقم:٩٧٢)اس صورت میں امام، مقتدی کو اپنے دائیں جانب امام کے برابر کھڑا کرے گا۔ جیسا کہ حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے:حضرت عبدﷲ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضور اکرمﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی۔ میں آپﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپﷺ نے میرے سر کو پیچھے کی طرف سے پکڑ کر مجھے دائیں طرف کر دیا۔(صحیح البخاری، کتاب الجماعة والإمامة، باب اذ قام الرجل عن يسار الإمام،جلد١ ص٢٢٥،رقم:٦٩٣)چنانچہ حضور صدرالشریعہ مفتی امجد علی علیہ الرّحمـہ لکھتے ہیں کہ: امام کے برابر کھڑا ہونے کے یہ معنی ہے کہ مقتدی کا قدم امام سے آگے نہ ہو یعنی اسکے پاؤں کا گٹا اسکے گٹے سے آگے نہ ہو، سَر کے آگے پیچھے ہونے کا کچھ اعتبار نہیں، تو اگر امام کے برابر کھڑا ہوا اور چونکہ مقتدی امام سے دراز قَـد ہے لہذا سجدے میں مقتدی کا سَـر امام سے آگے ہوتا ہے، مگر پاؤں کا گٹا گٹے سے آگے نہ ہو تو حرج نہیں۔ یونہی اگر مقتدی کے پاؤں بڑے ہو کہ اُنگلیاں امام سے آگے ہیں جب بھی حرج نہیں جبکہ گٹا آگے نہ ہو۔(بہـارشریعت حصہ سوم،ص٥٨٥)
                    واللّٰہ ورسولہ اعلم بالصواب

    کتبـہ محمـد عمـرفـاؔروق ربّانی دربھنگہ بہـار ( الہند )
                         📲 ٩٠٥٤١٦١٨١٢

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے