4.01.2020

مرغی کے پنجے کھانا از روئے شرع کیسا ہے

              اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ مرغے کی ٹانگ یعنی پنجہ کھانا کیسا ہے ؟ ایک صاحب کہتے ہیں کہ کھانا جاٸز نہیں ہے۔حقیقت کیا ہے مہربانی فرماکر مع حوالہ جواب عنایت کریں

                       ساٸلہ ناظمہ ناز
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
            وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته

                الجواب بعون الملک الوہاب

مرغی کا پایہ کھانے میں شرعا کوئی قباحت نہیں جبکہ شرعی طور پر ذبح کی گئی ہو جیسا کہ بکرے وغیرہ کے پایہ چمڑے کے ساتھ کھانے کوئی قباحت نہیں تو اس میں تو بدرجہ اتم قباحت نہیں جیسا کہ فتاوی فقیہ ملت میں ہے کہ حلال جانور کا چمڑا کھانا جائز ہے بشرطیکہ مذبوح شرعی کا چمڑا ہو امام اہل سنت سیدی اعلیحضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " مذبوح حلال جانور کی کھال بیشک حلال ہے شرعا اس کا کھانا ممنوع نہیں اگرچہ گائے بھینس بکری کی کھال کھانے کی قابل نہیں ہوتی ہے درمختار میں ہے کہ  اذا ما ذكيت شاة فكلها سوى سبع ففيهن الوبال فحاء ثم خاء ثم غين و دال ثم ميمان و ذال انتهى فالحاء الحياء وهو الفرج و الخاء الخصية و الغين الغدة و الدال الدم المسفوح و الميمان المرارة و المثانة و الذال الذكر (فتاوی رضویہ جلد ہشتم (۸) صفحہ ۳۴۲) رضا اکیڈمی ممبئی لہذا خصی بکری وغیرہ کا پایہ جو چمڑے کے ساتھ پکاتے ہیں اس کا کھانا جائز ہے اور اس کے شوربے کا بھی یہی حکم ہے ( فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ ۲۳۹)شبیر برادرز لاہور) لہذا مذکورہ باتوں سے واضح ہوا کہ مرغی کا پایہ کھانے میں شرعا کوئی حرج نہیں کیونکہ حلال جانوروں میں جن بائیس چیزوں کو یا حرام یا ممنوع یا مکروہ قرار دیا گیا ہے اس میں پیر کا ذکر نہیں ہے جس سے ثابت ہوا کہ مرغی کا پیر کھانا جائز ہے ۔ اب اگر کوئی یہ کہے کہ مرغی کا پیر کھانا جائز نہیں وہ اپنے قول سے رجوع کرے حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں من افتی بغیر علم لعنته ملئکة السماء والارض رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی کرم الله وجھه جو بغیر علم کے حکم شرعی بتائے اس پر آسمان وزمین کے فرشتے لعنت کریں اس حدیث کو ابن عساکر نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا)( کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی کرم اللہ وجہہ حدیث ۲۹۰۱۸) موسسہ رسالہ بیروت ۱۹۳/۱۰
فتاوی رضویہ جلد ۱۰ صفحہ ۳۱۴ 
رضا فاؤنڈیشن لاہور 

                     واللہ اعلم باالصواب

کتبــــــــــــــــــــــــــہ محمـــد معصـوم رضا نوری عفی عنہ
منگلور کرناٹک انڈیا(۵ شعبان المعظم ١٤٤١؁ھ_+

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only