7.17.2021

اگر باپ یہ کہکر انتقال کر جائے کہ میرے جنازے میں میرا بیٹا شامل نہ ہو تو کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس سلسلے میں کہ جو اولاد اپنے والد کی نافرمانی کرے اور باپ اپنے اس بیٹے سے سخت ناراض ہو یہاں تک کہ باپ انتقال سے پہلے وصیت کرے کہ میرے اس بیٹے کو میرے جنازے میں ہرگز شامل نہ ھو نے دینا شریعت کا حکم کیا ہے برائے کرم بتا یں مہربانی ہوگی محمد اظہر علی آلہ آباد

       جواب

صورت مستفسرہ میں یہ وصیت باطل ہے یعنی لاٸق عمل نہیں وہ نافرمان بیٹا باپ کی موت کے بعد نہلا بھی سکتا ہے کفن بھی پہنا سکتا ہے نماز جنازہ مٹی وغیرہ سارے امور انجام دیگا اور اہل خانہ نے یا دیگر بیٹوں نے روکا یا کسی کام میں شرکت کرنے سے منع کیا تو یہ سب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے تفصیل کے لیۓ دیکھیں

بہار شریعت حصہ ٩ وصیت کابیان (مکتبہ مدینہ دھلی)
اور ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ والدین کو ناراض کرنے والا ان کو ایذا دینے والا ظالم و جابر اور مستحق عذاب نار ہے حدیث شریف میں ہے عن عبد الله بن عمرو -رضي الله عنهما- عن النبي -صلى الله عليه وسلم- قال: «رضا الله في رضا الوالدين، وسَخَطُ الله في سَخَطِ الوالدين عبداللہ بن عمرو - رضی اللہ عنہما - سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا:’’اللہ کی خوشنودی والدین کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی خفگی والدین کی ناراضگی میں ہے

(جامع الترمذی جلد٢ ص١٢ مجلس برکات)
واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ عبید اللہ حنفی بریلوی

خادم التدریس مدرسہ ارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

Whatsapp Button works on Mobile Device only