معتکف رات کو مسجد سے نکل گیا تو اعتکاف کا کیا حکم ہے

           السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ 

اب تک اعتکاف اور زکوٰۃ کے مسائل پر گفتگو ہوتی رہی اب یہ بتائیں کہ معتکف کل بعد عصر اعتکاف کیلیے بیٹھا اور رات کو مسجد سے نکل کر چلاگیا اب گاؤں والے کیا کریں کوئی صورت نکل سکتی ہے؟ اعتکاف کیلٸے تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں 

 محمد عبد الجلیل اشرفیممبر آف گروپ یارسول اللہ ﷺ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
          وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ

              الجواب بعون الملک الوھاب-

رمضان کے آخر کے پورے دس دن کا اعتکاف سنت کفایہ ہے۔ اگر آبادی میں کسی ایک نے کر لیا تو سب بری ہو گٸے،اور اگر کسی نے نہیں کیا تو سب کی پکڑ ہوگی۔اس کے لیے بیسویں رمضان کو سورج ڈوبتے وقت یا اس سے پہلے اعتکاف کی نیت سے مسجد میں داخل ہونا ہے،اور تیسویں رمضان کو سورج ڈوبنے کے بعد یا انتیسویں رمضان کو چاند ہونے کے بعد مسجد سے نکلنا ہے۔اس درمیان معتکف حاجت شرعی ،یاحاجت طبعی کے علاوہ نکلے گاتو اعتکاف ٹوٹ جاےگا۔ اور معتکف پر ایک دن کی قضا واجب ہوگی چاہے وہ کسی عذر کی وجہ سے چھوڑا ہو جیسے بیمار ہوگیا تھا یا بلا اختیار چھوٹا ہو مثلا جنون و بے ہوشی طاری ہوگٸی ۔صورت مذکورہ میں جس مسجد کے متعلق سوال کیا گیا ہےاس میں اگر شخص مذکور کے سوا اور لوگ بھی معتکف ہوٸے تھے تب تو بہتر ہے کہ ان کی وجہ سے سب بری ہو جاٸیں گے ۔۔۔۔اور اگر وہ اکیلا ہی تھا وہ بھی نکل گیا تو اب اعتکاف سنت نہیں ہوسکتا کیوں کہ اس کے لٸے بیٹھنے کا وقت جاتا رہا۔(ملخصا از بہارشریعت اعتکاف کا بیان)

                 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

کتبہ : محمد کلیم نوری،استاذ مدرسہ اسلامیہ اہل سنت حشمت العلوم رامپور کٹرہ،بارہ بنکی ٢١/رمضان ١٤٤١

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے