چاروں اماموں کے نزدیک وتر کی نماز کتنی کتنی رکعتیں ہیں

                    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چاروں اماموں کے نزدیک وتر کی نماز کتنی کتنی رکعتیں ہیں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی 

    سائل محمد تعلیم رضا پتہ ہے احمد نگر مہاراشٹر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
               وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

             الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

حنفیہ کہتے ہیں کہ وتر واجب ہے اسکی تین رکعتیں ہیں جو سب سے اخیر میں ایک تسلیمہ سے پڑھی جاتی ہیں اسکی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور کوئی سورہ یا چھوٹی تین آیتیں یا ایک بڑی آیت جو چھوٹی تین آیتوں کے برابر ہو پڑھنا واجب ہے جیساکہ کتاب الفقہ علی المذاہب الاربع میں ہے کہ الحنفیۃ قالوا : الوتر واجب و ھو ثلاث رکعات بتسلیمۃ واحدۃ فی آخرھا و یجب أن یقرأ فی کل رکعۃ منھا الفاتحۃ و سورۃ أو ما یماثلھا من الآیات " اھ(ج:1/ ص:305/ صلاۃ الوتر دار الکتب العلمیۃ) حنابلہ کہتے ہیں کہ وتر سنت مؤکدہ ہے اسکی کم سے کم ایک رکعت ہے ایک ہی رکعت وتر پڑھنا مکروہ نہیں ہے زیادہ سے زیادہ وتر کی گیارہ رکعتیں ہیں اسکا اختیار ہے کہ وتر کی تین رکعت پڑھی جائے اور کامل وتر کم سے کم تین رکعت ہے اور پانچ یا سات یا نو رکعتیں پڑھی جاسکتی ہیں اگر گیارہ رکعتیں پڑھی جائیں تو چاہیے کہ ہر دو رکعت میں سلام پھیرا جائے اور ایک رکعت جدا پڑھکر وتر کردیں اور یہی طریقہ افضل ہے اور یہ اختیار ہے کہ تمام نماز ایک ہی سلام سے پڑھی جائے اور تشہد چاہے دو پڑھیں یا ایک ہی پڑھا جائے یعنی دس رکعت پڑھکر تشہد پڑھا جائے اور بغیر سلام پھیرے گیارہویں کے لئے کھڑے ہوکر وتر پوری کی جائے پھر تشہد پڑھکر سلام پھیرا جائے اگر وتر کی نو رکعتیں پڑھی جائیں تو اختیار ہے کہ ایک سلام اور دو تشہد سے پڑھی جائیں بایں طور کہ آٹھ رکعت نماز پڑھ کر بیٹھ کے تشہد پڑھی جائے اور سلام پھیرنے سے پہلے نویں رکعت پوری کی جائے پھر تشہد پڑھکر سلام پھیرا جائے اسی طرح پڑھنا افضل ہے تاہم یہ بھی اختیار ہے کہ نماز میں ایک ہی بار تشہد پڑھی جائے بایں طور کہ نو رکعتیں مسلسل پڑھکر اخیر میں تشہد کے بعد سلام پھیرا جائے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام نماز دو دو رکعتوں میں پڑھی جائے اور ہر دوگانہ پر سلام پھیرا جائے اور پھر نویں رکعت پڑھ کر سلام پھیرا جائے اگر وتر کی سات یا پانچ رکعتیں پڑھنی ہیں تو افضل یہی ہے کہ ایک تشہد اور ایک تسلیمہ سے پڑھی جائیں اور یہ بھی اختیار ہے کہ دو تشہد کے ساتھ پڑھی جائے بایں طور کہ چھٹی یا چوتھی رکعت کے بعد بیٹھکر تشہد پڑھی جائے اور سلام پھیرے بغیر کھڑے ہوکر باقی نماز پوری کی جائے اور اخیر میں ایک تشہد پڑھکر سلام پھیرا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا جائے اور اخیر میں ایک رکعت مع تشہد و سلام پڑھکر وتر پورا کیا جائےجیساکہ کتاب الفقہ علی المذاہب الاربع میں ہے کہ الحنابلۃ قالوا : ان الوتر سنۃ مؤکدۃ و اقلہ رکعۃ ولا یکرہ الاتیان بھا و اکثرہ احدی عشرۃ رکعۃ ولہ ان یوتر بثلاث و ھو اقل الکمال و بخمس و سبع و تسع فان اوتر باحدی عشرۃ فلہ ان یسلم من کل رکعتین و یوتر بواحدۃ و ھذا افضل ولہ ان یصلیھا بسلام واحد اما بتشھدین او بتشھد واحد و ذالک بان یصلی عشرا و یتشھد ثم یقوم للحادیۃ عشرۃ من غیر سلام فیاتی بھا و یتشھد او یصلی الاحدی عشرۃ ولا یتشھد الا فی آخرھا و یسلم و ان صلاہ تسعا فلہ ان یصلیھا بسلام واحد و تشھدین بأن یصلی ثمانیۃ و یجلس و یتشھد ثم یأتی بالتاسعۃ قبل ان یسلم و یتشھد و یسلم و ھذا افضل ولہ ان یصلیھا بتشھد واحد بان یصلی التسعۃ و یتشھد و یسلم ولہ ان یسلم من کل رکعتین و یأتی بالتاسعۃ و یسلم و ان اوتر بسبع او بخمس فالافضل ان یصلیہ بتشھد واحد و سلام واحد ولہ ان یصلیہ بتشھدین بان یجلس بعد السادسۃ او الرابعۃ و یتشھد ولا یسلم ثم یقوم فیاتی بالباقی و یتشھد و یسلم ولہ ان یسلم من کل رکعتین " اھ(ج:1/ ص:306/ صلاۃ الوتر / دار الکتب العلمیۃ )شافعیہ کہتے ہیں کہ وتر سنت مؤکدہ ہے اور سب سے زیادہ مؤکدہ سنت ہے وتر کی کم سے کم ایک رکعت ہے اور زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعتیں ہیں اگر ارادۃ مسئلہ کو جانتے ہوئے اس تعداد میں زیادتی کی گئی تو زائد نمازیں کسی شمار میں نہ ہونگی ہاں اگر بھول کر یا نا واقفیت کی بناء پر زیادہ نماز پڑھی تو نماز باطل نہ ہوگی بلکہ وہ محض نفل قرار پائے گی 
وتر میں صرف ایک رکعت پڑھنا طریق افضل کے خلاف ہے اگر کوئی شخص وتر ایک رکعت سے زیادہ پڑھے تو جائز ہے کہ اسکو ساتھ ملالے بایں طور کہ آخری رکعت کو ابتدائی رکعتوں سے ملاکر ادا کیا جائے یا الگ کرکے پڑھے یعنی طریق مذکور سے نہ پڑھی جائے چنانچہ اگر مثلا پانچ رکعت وتر پڑھی تو جائز ہے کہ ایک سلام سے دو رکعتیں پڑھے اس کے بعد تین رکعتیں ایک سلام سے ادا کرے اور یہ بھی جائز ہے کہ جدا جدا پڑھی جائے بایں طور کہ آخری رکعت کو الگ کرکے پڑھلے اور اس سے پہلے چار رکعتیں دو دو رکعتوں میں پڑھی جائیں یا پھر چار رکعتیں اکٹھی پڑھی جائیں - لیکن اگر وتر کو ملاکر پڑھنا ہے تو دو بار سے زیادہ تشہد جائز نہیں ہے بہتر یہی ہے کہ وتر کی ایک رکعت جداگانہ ادا کی جائے جیساکہ کتاب الفقہ علی المذاہب الاربع میں ہے کہ الشافعیۃ قالوا : الوتر سنۃ مؤکدۃ و ھو آکد السنن و أقلہ رکعۃ و اکثرہ احدی عشرۃ فلو زاد علی العدد المذکور عامدا عالما لم تنعقد صلاتہ الزائدۃ اما لو زاد جاھلا او ناسیا فلا تبطل صلاتہ بل تنعقد نفلا مطلقا والاقتصار علی رکعۃ خلاف الاولی و یجوز لمن یصلی الوتر اکثر من رکعۃ واحدۃ ان یفعلہ موصولا بان تکون الرکعۃ الاخیرۃ متصلۃ بما قبلھا او مفصولا بان لا تکون کذالک فلو صلی الوتر خمس رکعات مثلاً جاز لہ ان یصلی رکعتیں بتسلیمۃ ثم یصلی الثلاثۃ بعدھا بتسلیمۃ و جاز لہ ان یفصل بحیث یصلی الرکعۃ الاخیرۃ منفصلۃ عما قبلھا سواء صلی ما قبلھا رکعتین رکعتین او اربعا ولا یجوز لہ فی حالۃ الوصل ان یأتی بالتشھد اکثر من مرتین والافضل ان یصلیہ مفصولا " اھ( ج:1/ص:307/ صلاۃ الوتر / دار الکتب العلمیۃ)مالکیہ کہتے ہیں کہ وتر سنت مؤکدہ ہے بلکہ وہ طواف اور عمرہ کی دو رکعتوں کے بعد سب سے ضروری سنت ہے یعنی تمام سنتوں میں سب سے زیادہ ضروری سنت طواف واجب کی دو رکعتیں ہیں اسکے بعد طواف غیر واجب کی دو رکعتیں اسکے بعد عمرہ کی سنتیں پھر وتر کی ایک رکعت ہے اور اسکا جفت نماز (دوگانہ) سے ملانا مکروہ ہے جیساکہ کتاب الفقہ علی المذاہب الاربع میں ہے کہ المالکیۃ قالوا : الوتر سنۃ مؤکدۃ بل ھو آکد السنن بعد رکعتی الطواف والعمرۃ فآکد السنن علی الاطلاق رکعتا الطواف الواجب ثم رکعتا الطواف غیر الواجب ثم العمرۃ ثم الوتر و ھو رکعۃ واحدۃ و وصلھابالشفع  مکروہ " اھ( ج:1/ص:308/ صلاۃ الوتر / دار الکتب العلمیۃ) 

           واللہ تعالیٰ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 24---مئی ---2020---بروز اتوار

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے