بکرے کو کتے نے کاٹ لیا تو کیا اسکی قربانی ہو سکتی ہے


            السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کی زید کے پاس ایک بقرہ تھا جو نیاز یا قربانی کےلئے رکھے تھا اس بقرے کو کتےنے منھ سے پکڑ کر نوچ ڈالا بقرے کو گھاؤ ہوگیا پھر دواہونے پر ٹھیک ہوگیا تواب اسکی نیاز یا قربانی ہو سکتی ہیں علمائےکرام سے گزارش ہےکی جواب عنایت فرمائے عین کرم نوازش ہوگی

  السائل وصیداحمد رضوی گرام ریگاؤں ضلع گونڈہ یوپی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              الجواب بعون الملڪ الوہاب
  
              اللھم ہدایت الحق والصواب 

حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ الرحمہ اپنی کتاب فتاوی فقیہ ملت میں تحریر فرماتے ہیں کہ زخمی شدہ بکرا اگر اس کا زخم مندمل ہوگیا ہو اور اس جگہ دوسرے بال نکل آئے ہوں اور وہ زخم گٹھلی کی شکل اختیار نہ کیا ہو تو ایسے بکرے کی قربانی بلا کراہت جائز ہے اور اس کا گوشت کھانے میں شرعا کوئی قباحت نہیںاور اگر وہ زخم گٹھلی کی طرح ہوکر مندمل ہوا ہو اور وہاں دوسرے بال بھی نہ جمے ہوں تو اس کی قربانی کراہت کے ساتھ جائز ہے کہ یہ عیب ہے مگر عیب فاحش نہیں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " قربانی کا جانور عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی " اھ ( بہار شریعت حصہ پانزدھم صفحہ 140 )اور فتاوی عالمگیری جلدپنجم صفحہ 298 میں ہے کہ " واما صفته فهو أن يكون سليما من العيوب الفاحشة كذا فى البدائع " اھ حوالہ فتاوی فقیہ ملت جلددوم صفحہ ۲۴۸معلوم ہوناچاہئے کہ جس بکرےکی قربانی جائزہے اس کی نیاز بھی جائزہے 

                   واللہ اعلم بالصواب 

غیاث الدین قادری دارالعلوم شھیداعظم دولہاپور گونڈہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے