نماز کے دوران سانپ کو مار سکتے ہیں یا نہیں؟؟ ؟


          السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  حالت نماز میں سانپ یہ کوئی اور جانور آگیا تو کیا کرنا چاہیے شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

           ۔سائل✍عارف رضا کانپوری یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
           وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

                الجواب بعون الملک الوھاب 

حالت نماز میں اگرسانپ دیکھائی دےتو نمازتوڑ کرمارسکتےہیں جب کہ ایذاپہونچنےکاصحیح اندیشہ ہو ورنہ مارنامکروہ ہےجیساکہ سرکارصدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیںسانپ وغیرہ کے مارنے کے لیے جب کہ ایذا کا اندیشہ صحیح ہو یا کوئی جانور بھاگ گیا اس کے پکڑنے کے لیے یا بکریوں پر بھیڑیے کے حملہ کرنے کے خوف سے نماز توڑ دینا جائز ہے۔ یوہیں اپنے یا پرائے ایک درہم کے نقصان کا خوف ہو، مثلاً دُودھ اُبل جائے گا یا گوشت ترکاری روٹی وغیرہ جل جانے کا خوف ہو یا ایک درہم کی کوئی چیز چور اُچکا لے بھاگا، ان صورتوں میں نماز توڑ دینے کی اجازت ہےبہارشریعت جلداول حصہ سوم مکروہات کابیان صفحہ 637دعوت اسلامی اورآگےفرماتےہیںکہ سانپ بچھومارنےسےنمازنہیں جاتی جب کہ نہ تین قدم چلناپڑےنہ تین ضرب کی حاجت ہوورنہ جاتی رہےگی مگرمارنےکی اجازت ہےاگرچہ نمازفاسدہوجائےایضا صفحہ 613


                واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب 

            محمدافسررضاسعدی عفی عنہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے