کیا مدرسہ میں اعتکاف کے لئے بیٹھا جا سکتا ہے؟؟؟

                  السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ

علمائے اسلام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ ایک مسجد ہے جو زیر تعمیر ہے اور اسی کے نیچے مدرسہ ہے اسی میں نماز ہوتی ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ ابھی اعتکاف میں بیٹھنا چاہےتو مسجد میں بیٹھے جو زیر تعمیر ہے یا پھر مدرسے میں جہاں ابھی نماز ہوتی ہے

                    سائل ۔۔محمد امین
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

               الجواب۔  بعون الملک الوہاب 

اعتکاف کی تعریف مسجد میں اللہ تعالی کےلئے نیت کے ساتھ ٹہرنا اسی کو اعتکاف کہتے ہیںاب اعتکاف کیلئے جامع مسجد ہونا شرط نہیں ہےجیسا کہ حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ مسجد جامع ہونا اعتکاف کیلئے شرط نہیں، بلکہ مسجد جماعت میں بھی ہو سکتا ہے مسجد جماعت وہ ہے جس میں امام و مؤذن مقرر ہوں،اگرچہ اس میں پنجگانہ جماعت نہ ہوتی ہو، اور آسانی اسی میں ہے کہ مطلقا ہر مسجد میں اعتکاف صحیح ہے، اگرچہ وہ مسجد جماعت نہ ہو، خصوصا اس زمانہ میں کہ بہتیری مسجدیں ایسی ہیں جس میں نہ امام ہے اور نہ ہی مؤذن(ردالمختار )حوالہ۔بہار شریعت حصہ پنجم ص(۱۰۲۰)اعتکاف مسجد کے حرم میں کرے، یعنی نیچے اور اگر نیچے کام ہورہا ہے تو اوپر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیںصورت مذکورہ میں اگر اس میں نماز پنجگانہ جماعت سے ہوتی ہے ہے تو بلا شبہ اعتکاف بیٹھنا بھی جائز ہے

                 واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب 

فقط محمد نعیم خان القادری خطیب و امام جامع مسجد نیسری کولھا پور مہاراشٹر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے