کیا آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے


           اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ توٹ جاتا ھےبحوالہ جواب عنایت فرماٸیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام 

        ساٸل محمد حسین رضوی مھاراشٹرا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
         وعلیـکم السـلام ورحمة اللہ وبرکاته

           الجـــــــواب بـعــون الملک الـوہاب 

روزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے میں حرج نہیں کیونکہ اسکے بارے میں ضابطہ کلیہ یہ ہے کہ جماع اور اسکے ملحقات کے علاوہ روزہ توڑنے والی صرف وہ دوا اور غذا ہے جو مسامات اور رگوں کے علاوہ کسی منفذ سے صرف دماغ یا پیٹ میں پہونچے درمختار جلد دوم صفحہ 410/ میں ہے کہ " الضابط وصول ما فیہ صلاح بدنہ لجوفہ " و فی ردالمحتار " الذی ذکرہ المحققون ان معنی المفطر وصول ما فیہ صلاح البدن الی الجوف اعم من کونہ غذاء او دواء " اھ اور ظاہر ہے کہ وہ دوا جو آنکھ میں ڈالی جائے گی اسکا اثر مسام ہی کے ذریعہ ظاہر ہوگا اس لئے کہ آنکھ سے پیٹ یا دماغ تک کوئی دوسرا منفذ نہیں اور یہ مفسد صوم نہیں تبیین الحقائق جلد اول صفحہ 323/ میں ہے کہ
والداخل من المسام لا ینافیہ علی ما ذکرنا ولانہ ما یجدہ فی حلقہ اثر الکحل لا عینہ فلا یضرہ کمن ذاق الدواء و وجد طعمہ فی حلقہ لا یمکن الامتناع عنہ فصار کالغبار والدخان " اھ و فی الفتاوی الھندیۃ فی الجزء الاول " وما یدخل من مسام البدن من الدھن لا یفطر ھکذا فی شرح المجمع " اھ اب اس سے روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ روزے کی حالت میں آنکھ میں دوائی ڈالنے میں حرج نہیں مزید برآں عالمگیریہ جلد اول صفحہ 203/ میں ہے کہ"ولو افطر شیئا من الدواء فی عینہ لا یفطر صومہ عندنا و ان وجد طعمہ فی حلقہ و اذا بزق فرائ اثر الکحل و لونہ فی بزاقہ عامۃ المشائخ علی انہ لا یفسد صومہ کذا فی الذخیرۃ و ھو الاصح ھکذا فی التبین " اھ اور درمختار جلد دوم صفحہ 395/ میں ہے کہ" لو ادھن او الکتحل او احتجم و ان وجد طعمہ فی حلقہ " اور اسی کے تحت شامی میں ہے کہ " ای طعم الکحل او الدھن کما فی السراج وکذا لو بزق فوجد لونہ فی الأصح - بحر قال فی النھر ان الموجود فی حلقہ اثر داخل من المسام الذی ھو خلل البدن والمفطر انما ھو الداخل من المنافذ " اھ ماخوذ از فتاوی بریلی ص:371/372/ اعلحضرت نیٹ ورک) مذکورہ حوالہ جات کی روشنی میں واضح ہوگیا کہ آنکھ میں دوائی ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے
           
                 واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ اسرار احمـــــد نــوری بریلوی خادم التـــدریس والافتاء مدرسہ عربیـہ اہل سنت فیض العلـوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنـڈ(الھنـــــد)

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ