بیوی کو کہا کہ تم چاند جیسی ہو تمہیں طلاق دے دیا تو کیا حکم ہے

 

                 السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

اگرکسی نے اپنے بیوی کوکہا کہ تم چاند سے زیادہ خوب صورت نہیں ہو میں تم کو طلاق دے دیا تو کیا طلاق واقع ہوگی یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ کا موقع دے فقط والسلام 

                      سائل ۔ محمد مختار عالم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                 وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

                     الجواب بعون الملک الوھاب 

صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہو گئ جیساکہ شخص مذکور کے قول سے ظاہر ہے کہ تم چاند سے زیادہ خوبصورت نہیں ہو میں نے تم کو طلاق دے دیا اگر شخص مذکور نے ایک طلاق کی نیت کی تو طلاق رجعی واقع ہوئ اگر وہ چاہے تو عدت کے اندر رجعت کر سکتا ہے اور اگر رجعت نہ کیا تو وہ اس کے نکاح سے نکل جاۓ گی اگر دو کی نیت کی تو طلاق بائن واقع ہوئ اس صورت میں عورت نکاح سے نکل گئ چاہے عدت کے اندر یا بعد عدت نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرے اور اگر تین کی نیت کی تو طلاق مغلظ واقع ہوئ اس صورت میں عورت اس پر حرام ہوگئی اب وہ عدت گزار کر جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے اگر شوہر کی طرف لوٹنا چاہتی ہے تو بغیر حلالہ کے شوہر اول کی نہیں لوٹ سکتی رب کا ارشاد پاک ہے فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دیدے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے۔ سورہ بقرہ آیت ٢٣٠ھکذا فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ ٨ و ھکذا عام کتب فقہ

                  واللہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

         کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    معذرت کے ساتھ حضور والا اگر کسی نے صریح الفاظ میں کہا، "جا میں نے تجھ کو طلاق دے دیا" جیسا کہ اوپر فتوی میں مذکور ہے تو اس سے ایک طلاق صریحی پڑے گی اب اس میں نیت کی کیا ضرورت ہے کہ وہ ایک کی نیت کیا ہے یا دو کی یہ تو کنایہ میں ہوتا ہے
    امید ہے کہ مندرجہ بالا جملوں سے آپ میری بات کو سمجھ جائیں گے اور اطمنان بخش جواب دینگے
    فقط والسلام.. محمد عالم گونڈوی

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ