شہادت کی انگلی میں انگوٹھی پہننا کیسا ہے


                السلام علیکم و رحمة الله وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ اس مسئلہ کے بارے میں کہ كیا شہادت کی انگلی میں انگوٹھی پہن سکتے ہیں؟ یا نہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

                  سائل محمد عالم شیخ الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

             الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

انگوٹھی دائیں بائیں دونوں ہاتھوں کی کسی بھی انگلی میں پہننا جائز ہے مگر بائیں ہاتھ کی چھنگلیا میں پہننا زیادہ مناسب ہے حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بہار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں کہ داہنے یا بائیں جس ہاتھ میں چاہیں انگوٹھی پہن سکتے ہیں اور چھنگلیا میں پہنی جائے " اھ( ح:16/ص:427/ انگوٹھی اور زیور کا بیان / مجلس المدینۃ العلمیۃ دعوت اسلامی)اور درمختار میں ہے کہ یجعلہ لبطن کفہ فی یدہ الیسری و قیل الیمنی الا أنہ من شعار الروافض فیجب التحرز عنہ- قہستانی وغیرہ " اھ اور ردالمحتار میں ہے کہ (فی یدہ الیسری) و ینبغی أن یکون فی خنصرھا دون سائر أصابعہ و دون الیمنی - ذخیرہ "اھ( ج:9/ص:519/ کتاب الحظر والاباحۃ / دار عالم الکتب) اور فتاوی ھندیہ میں ہے کہ و فی الفتاویٰ و ینبغی أن یلبس الخاتم فی خنصرہ الیسری دون سائر أصابعہ و دون الیمنی لان اللبس فی الیمنی علامۃ الرفض و أما الجواز فی الیمین والیسار جمیعا و بکل ذالک ورد الاثر کذا فی الذخیرۃ " اھ( ج:5/ص:336/ الباب العاشر فی استعمال الذھب والفضۃ / بیروت)اور الجوھرۃ النیرۃ میں ہے کہ  قال فی الینابیع : و ینبغی أن یختم فی خنصرہ الیسری لا فی الیمین اھ( ج:2/ص:616/ کتاب الحظر والاباحۃ / دار الکتب العلمیۃ )

             واللہ تعالیٰ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 1---جون ---2020---بروز پیر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے