مسلم کو ٹیکا لگانا کیسا ہے


                السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی مسلم لڑکا ماتھے پر ٹیکا لگائے تو اس کے لیے شرعی حکم کیا ہے

              المستفتی محمد شفاعت برکاتی الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                و علیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ

   الجواب بعون ملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب 

ماتھے پر قشقہ یعنی ٹیکا لگانا کفر ہے کہ یہ کفار و مشرکین کا مذہبی شعار ہے کیوں کہ جوکہ ماتھے پر ٹیکا دیکھتا ہے تو یقین کر لیتا ہے کہ ایسا شخص ہندو ہے لھذا مذکورہ شخص اسلام سے خارج ہوگیا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے انکم اذا مثلھم اب جبکہ تم انکے کام پر راضی ہو تو تم بھی کافر ہو سورہ نساء آیت ١٤٠ اور سیدی سرکار اعلی حضرت قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ ماتھے پر ٹیکا لگانا خاص شعار کفر ہے اور اپنے لئے جو شعار کفر پر راضی ہو اس پر لزوم کفر ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں من تشبہ بقوم فھو منھم یعنی جو کسی قوم سب مشابہت پیدا کرے وہ انہیں میں سے ہے اشباہ والنظائر میں ہے عبادة الصنم کفر ولا اعتبار بما فی قلبہ فتاوی رضویہ شریف جلد نہم قدیم نصف آخر ص ٣١٦ لھذا شخص مذکور توبہ تجدید ایمان و نکاح کرے ماخوذ کنز الریحان فی فتاوی ابی النعمان المعروف فتاوی مشاہدی جلد اول ص ٢٩٢ اور اگر کوئی شخص نظر بد سے بچنے کیلئے ایسا کرے تو جائز ہے جیسا کہ صاحب جنتی زیور تحریر فرماتے ہیں کہ بچوں کے ماتھے یا ٹھوڑی پر کاجل وغیرہ سے دھبہ لگادینا یا کھیتوں میں کسی لکڑی میں کپڑا لپیٹ کر گاڑ دینا تاکہ دیکھنےوالے کی نظر پہلے اس پرپڑے اور بچوں اورکھیتی کو کسی کی نظر نہ لگے ایساکرنا منع نہیں ہے کیونکہ نظر لگنا حدیثوں سے ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیاجاسکتا جنتی زیور ص ٢٦٠ / ٢٦١

                 واللہ تعالی اعلم باالصواب

 کتبہ انیس الرحمن حنفی رضوی بہرائچ شریف یوپی الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے