شوہر یا بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو نکاح کب تک کر سکتے ہیں


                السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

سوال اگر شوہر یہ بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے اور دو بارہ نکاح کرنا چاہے تو کیا کر سکتے ہیں شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں

                 ۔سائل محمد نظام رضا یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ 

                  الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

 اگر شوہر کا انتقال ہو گیا اور بیوہ عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل بچہ تولد ہو نے تک ہے یعنی بچہ کے پیدائش کے بعد وہ دوسرے کسی بھی سنی صحیح العقیدہ سے نکاح کر سکتی ہے اور اگر حمل والی نہیں ہے تو اس کی عدت چار مہینہ دس دن ہے شوہر کے انتقال کے چار ماہ دس دن کے بعد جس سنی صحیح العقیدہ سے چاہے نکاح کر سکتی ہے انوار الحدیث صفِحہ ۲۸۲ پر ہے کہ حضرت مسوربن مخرمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے رویت ہے کہ سبیعہ اسلمیہ کو شوہر کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد بچہ تولد ہوا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور نکاح کی اجازت طلب کی، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی، تو انھوں نے نکاح کرلیا( بحوالہ بخاری شریف )معلوم ہوا کہ بیوہ حاملہ کی عدت وضع حمل ہےجیساکہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ اسی حدیث شریف کے تحت فرماتے ہیں کہ عدت حامل وضع حمل است (بحوالہ اشعۃ اللمعات جلد ۳ صفحہ ۱۸۴)اور بیوہ اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت چار مہینہ دس دن ہے جیساکہ قرآن پاک پارہ ۲ رکوع ۱۴ میں ہے کہ والذین یتوفون منکم و یذرون ازواجا یتربصن بانفسھن اربعۃ اشھر و عشرا اگر بیوی کا انتقال ہو گیا ہے تو جب چاہے کسی سنیہ سے نکاح کر سکتا ہے مگر تین دن ٹھرے تو بہتر ہے کہ تین دن سوگ کے ہیں لوگ تعزیت کے لئے آئیں گے اور یہ شادی میں مصروف ہوگا - جس سے معاشرتی غلط اثر پڑے گا - اور بدگمانی میں مبتلا ہو نے کا سبب بنے گا کہ دیکھو ہم آئے تھے تعزیت کے لئے مگر یہاں تو شادی کی مبارکباد دینی پڑ رہی ہے - ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس کے مرنے کا انتظار ہی کر رہا تھا وغیرہ وغیرہ 
           واللہ تعالی اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

     کتبہ محمد جعفر علی صدیقی رضوی مہاراشٹر 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے