چلتی ہوئی ٹرین میں نماز پڑھنا کیسا ہے


                   السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہوائی جہاز و ٹرین چلنے کے دوران نماز پڑھنے کا شرعی حکم کیا اور اس پر سرکار تاج الشریعہ کا موقف کیا ہے جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہو 

     سائل محمد شبیر احمد رضوی مالیگاؤں (ایم پی)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب

اسی طرح کے ایک سوال پر حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں چلتی ہوئی ٹرین میں نفل نماز پڑھنا جائز ہے مگر فرض واجب اور سنت فجر پڑھنا جائز نہیں اس لئے کہ نماز کے لئے شروع سے آخر تک اتحاد مکان اور جہت قبلہ شرط ہے اور چلتی ہوئ ٹرین میں شروع نماز سے آخر تک قبلہ رخ رہنا اگرچہ بعض صورتوں میں ممکن ہے لیکن اختتام نماز تک اتحاد مکان یعنی ایک جگہ رہنا کسی طرح ممکن نہیں اس لئے چلتی ہوئ ٹرین میں نماز پڑھنا صحیح نہیں ۔ ہاں اگر نماز کے اوقات میں نماز پڑھنے کی مقدار ٹرین کا ٹھہرنا ممکن نہ ہو تو چلتی ہوئ ٹرین میں نماز پڑھ لے پھر موقع ملنے پر اعادہ کرے ردالمحتار میں ہے(الحاصل ان کلا من اتحاد المکان واستقبال القبلۃ شرط فی صلاۃ غیر النافلۃ عندالامکان لا یسقط الابعذر )یعنی حاصل کلام یہ ہے کہ نفل نماز کے علاوہ سب نمازوں کے لئے اتحاد مکان اور استقبال قبلہ یعنی ایک جگہ ٹھہرنا اور قبلہ رخ ہونا آخر نماز تک بقدر امکان شرط ہے جو بغیر عذر شرعی ساقط نہ ہوگا اور ظاہر ہے کہ ٹرین نماز کے اوقات میں کہیں نہ کہیں اتنی دیر ضرور ٹھہرتی ہے کہ دو یا چار رکعت نماز فرض آسانی سے پڑھ سکتا ہے کہ ٹرین ٹھہرنے سے پہلے سے فارغ ہوکر تیار رہے اور ٹرین ٹھہرتے ہی اتر کر یا ٹرین میں ہی قبلہ رخ کھڑے ہو کر پڑھ لے اگر اتنی قدرت کے باوجود کاہلی اور سستی سے چلتی ہوئ ٹرین میں نماز پڑھے گا تو وہ شرعا معذور نہ ہوگا اور نماز نہ ہوگا(حوالہ فتاوی فیض الرسول، جلد 01 صفحہ 236/237)(نوٹ یہی موقف حضور تاج الشریعہ علیہ رحمہ کا بھی تھا) 

           واللّٰہ ورسولہ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب

کتبہ ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے