کھڑے ہو کر وضو بنانا کیسا؟


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کھڑے ہو کر وضو بنانا کیسا ہے اس پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی فقط والسلام 

المستفی..محمد شاکر رضا رضوی بندکی فتح پور یوپی

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکتہ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

وضو کرنا کھڑے ہو کر بھی جائز ہے شریعت نے اس کی ممانعت نہیں فرمائی لیکن بیٹھ کر وضو کرنا افضل اور سنت کے زیادہ قریب ہے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ کا معمول زیادہ تر بیٹھ کر وضو فرمانا تھا لہٰذا: اگر کوئی کھڑے ہو کر وضو کرے تو وضو ہو جائے گا گناہ نہیں مگر ادب و سنت یہ ہے کہ بیٹھ کر وضو کیا جائے، تاکہ خشوع و خضوع برقرار رہے

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کر وضو فرمایا اور کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے (صحیح مسلم) فقہاءِ کرام لکھتے ہیں الجلوس فی الوضوء أفضل ترجمہ: وضو بیٹھ کر کرنا افضل ہے(فتاویٰ عالمگیری کتاب الطہارت)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ کھڑے ہو کر وضو کرنا درست ہے بشرطیکہ وضو کی چھینٹے اوپر نہیں آئے اور اگر وضو کی چھینٹے اوپر آ رہی ہے تب بھی وضو ہو جائے گا مگر یہ خلاف ادب ہے مکروہ ہے فقط والسلام 

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ