جس لڑکی سے زنا کیا اسی سے شادی کرے تو بچہ کا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ علماء کرام کی بارگاہ میں ایک سوال ہے کہ زید نے ایک لڑکی سے زنا کیا اور حمل رہ گیا اب اگر زید اس سے نکاح کرے تو بچہ حلال مانا جائے گا یا حرام ؟ المستفی عبداللہ مرغا منڈی غازی آباد

       جواب

اگر کوئی مرد کسی عورت سے زنا کر لے پھر وہ حاملہ ہو جائے اور اس کے بعد اس عورت سے نکاح کر لے تو اگر نکاح سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہوا تو بچہ ثابت النسب مانا جائے گا اور اگر نکاح کی تاریخ سے چھ مہینہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے ۔ اور خاوند یہ اقرار کرے کہ یہ بچہ میرا ہے تو ثبوت نسب کے لئے یہ اقرار معتبر نہیں ہوگا
جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ إذا زنا بامرأة ثم تزوجها فولدت منه إن جاءت به لستة عشر فصاعدا يثبت نسبه إلا ان يدعيه ولم يقل إنه من الزنا إلا ان قال أنه من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه " اھ

( ج ۱ ص ۵٤٠ كتاب الطلاق ، الباب الخامس عشر )
اور اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ولد الزنا کا نسب زانی سے نہیں ثابت ہوسکتا اگر چہ وہ اقرار بھی کرے
حدیث صحیح میں ارشاد فرمایا الولد للفراش و للعاهر الحجر اھ جس حدیث کا ٹکڑا ہے اس میں زانی کا اقرار بھی موجود ہے پھر بھی
حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے نسب ثابت نہ فرمایا ( فتاوی امجدیہ ج ۲ ص ۲۹۲ )
اور بہار شریعت میں ہے کہ کسی عورت سے زنا کیا پھر اُس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ یہ زنا سے میر ا بیٹا ہے ( ج ۲ ص ۲۵۱ ثبوت نسب کا بیان ) واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ

۱۱محرم الحرام ۱۴۴۴ ھجری ۱۰ اگست ۲۰۲۲ عیسوی چہار شنبہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے