11.18.2021

حیض و نفاس میں جو نماز چھوٹ گئی انکا کیا حکم ہے

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ حیض و نفاس کی حالت میں نماز چھوٹ جائے تو اس پر قضا لازم ہے یا نہیں ؟ المستفی محمّد غلام غوث رضوی

       جواب

صورت مسئولہ میں حیض کے دنوں کی نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا نہیں۔ البتہ اس دوران رمضان کے جتنے روزے رہ گئے وہ بعد میں قضا رکھنے ہوں گے۔ حدیثِ پاک میں ہے:”عن عائشۃ کان یصیبنا ذلک فنؤمر بقضاء الصوم و لا نؤمر بقضاء الصلاۃ“یعنی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ماہواری میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضا کا ہمیں حکم دیا گیا لیکن نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا گیا صحیح مسلم، جلد 01، صفحہ 153، مطبوعہ کراچی
صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں ان دِنوں میں نمازیں معاف ہیں، ان کی قضا بھی نہیں اور روزوں کی قضا اور دنوں میں رکھنا فرض ہے بہار شریعت ،جلد01،صفحہ380 واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ الفقير محمــــــــد ثمیر رضؔا علیمیؔ عفی عنہ

مقام مقام بسنت تھانہ اورائی ضلع، مظفر پور بہار الہند

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only