سنی اگر اپنی بچی کا رشتہ دیوبندی سے کرے تو اسکی دعوت قبول کرنا کیسا

Gumbade AalaHazrat

سوال
  کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید جو اپنے بارے میں کہتا ہے کہ میں سنی ہوں مگر اپنی بیٹی کی شادی ایک دیوبندی وہابی سے کر رہا ہے تو کیا زید کے یہاں کی دعوت قبول کر سکتے ہیں ۔ جیسے میلاد شریف ۔ ولیمہ وغیرہ کی ؛اور جو دعوت قبول کر لے اس کے لئے کیا حکم ہے ۔ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی المستفی محمد شیر علی نعمانی ہرگوبند پور مہنار ویشالی

       جواب

زید اگر دانستہ اپنی بیٹی کا نکاح کسی دیوبندی یا وہابی سے کر رہا ہے نیز ان کے عقائد باطلہ پر غیر مطلع ہے تو وہ گمراہ بد مذھب ہے اس کو ان کے عقائد سے آگاہ کراکے باز رہنے کا حکم دیا جائے مان جاے تو ٹھیک ورنہ اس کے ساتھ میل؛ جول؛ اٹھنا؛ بیٹھنا سلام کلام دعوت و رواداری سب ناجائز؛ اور اگر زید ان کے عقائد کو کفریہ باطلہ سے بخوبی آگاہ ہونے پر بھی ان کو حق جانے اور ان سے تعلق رکھے اور ان سے شادی بیاہ کرے تو وہ بھی انہی کے زمرے میں داخل ہے لہذا اس کی دعوت وغیرہ میں جانا نناجائز و حرام اور جو لوگ ایسے شخص کی دانستہ طور پر دعوت قبول کریں ان پر بھی تو وہ لازم
جیسا کہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے جو شخص تمام مذاہب کو حق جانتا ہے وہ گمراہ لا مذہب ہے اس کے ساتھ میل ؛ جول؛اٹھنا بیٹھنا سلام ؛ کلام ناجائز
قال اللہ تعالی وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ- اور جو شخص دیوبندیوں کے عقائد کفریہ پر بخوبی آگاہ ہو اس کا حکم جانتا ہو پھر بھی وہ انہیں مسلمان جانے تو کافر و مرتد ہے
نیز حسام الحرمین ص ۹۰ مطبوعہ رضا اکیڈمی کے حوالے سے ہے و بالجملۃ ھؤلاء الطوائف کلھم کفار مرتدوں خارجون عن الاسلام باجماع المسلمین و قد قال فی البزازیۃ و الدرر و الغرر و الفتاوی الخیریۃ و مجمع الانہر و الدر المختار و غیرہا من معتمدات الاسفار فی مثل ھؤت الکفار من شک فی کفرہ و عذابہ فقد کفر۔ اھ ج ۲ ص ۱۴۱ مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی لہذا زید دیوبندیوں ؛ وہابیوں کو بر حق سمجھتا ہے جو اس کے عمل ( اپنی بیٹی کا نکاح دیوبندی کے ساتھ کرنے) سے ظاہر ہے اس بنیاد پر زید گمراہ بدمذہب ہے ؛ زید اگر مذکور بالا کوشش کے بعد راہ راست پر نہ آے تو اس کی دعوت قبول کی جائے نہ اس کے یہاں آنا جانا اٹھنا بیٹھنا کیا جائے ؛ اور جو لوگ زید سے ان سارے خفایا کے اظہار کے بعد تعلق رکھیں یا دعوت قبول کریں وہ بھی توبہ کریں

واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

کتبہ ابو عبداللہ محمد ساجد چشتی شاہجہاں پوری

مقام خادم مدرسہ دارارقم محمدیہ میر گنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے