کیا اپنا خواب کسی اور کو بتا سکتے ہیں؟؟؟


                السلامُ علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

سوال زید نے خواب دیکھا تو کیا وہ اپنا خواب کسی اور کو بتا سکتا ہے برا خواب ہو اچھا شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔

               سائل عارف رضا کانپوری یوپی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

پسندیدہ خواب دیکھے تو کسی معتبر معتمد عالم دین دوست سے بیان کرے ناپسندیدہ دیکھے تو شیطان کے شر سے اللہ تعالی کی پناہ مانگے اور کسی سے بیان نہ کرے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہالرؤیا الصالحۃ من اللہ والحلم من الشیطان فاذا رای احدکم ما یحب فلا یحدث بہ الا من یحب واذا رای مایکرہ فلیتعوذ باللہ من شر الشیطان ولیتقل ثلثا و لا یحدث بھا احدا فانھا تضرہ ، متفق علیہ یعنی اچھی خواب اللہ کی طرف سے ہے، اور بری خواب شیطان کی طرف سے تو تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اسے اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے، اور جب ناپسندیدہ بات دیکھے تو اس کی شر سے اللہ کی پناہ مانگے، اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبر کسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگی( المرآت شرح مشکوۃ جلد ۶ صفحہ ۲۸۸/۲۸۸ بحوالہ مسلم، بخاری )اس حدیث شریف کے تحت اسی جگہ مفسر قرآن، محدث اہل سنت، مصلح قوم و ملت، برق رضویت بر گردن وہابیت، حکیم الامت حضرت مفتی احمد یارخاں نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ اچھی خواب ضرور بیان کرے تاکہ اس کا ظہور ہو جائےمگر بیان ایسے عالم سے کرے جو اس کا دوست و خیر خواہ ہو تاکہ وہ تعبیر خواب اچھی ہی دے بری نہ دے کیونکہ خواب کی پہلی تعبیر ہی پر خواب کا ظہور ہوتاہے اور تین بار تھوکنے کا مطلب صرف تھتکارنا ہے (صرف تھو تھو کرنا ہے ) جیساکہ دوسری روایت سے ثابت ہے یعنی نہ کہ واقعی تھوک نکالنا اور گھر یا بستر کو کو گندہ کرنا 
               واللہ تعالی اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

              کتبہ محمد جعفر علی صدیقی رضوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے