6.26.2020

عالم دین اگر کسی کافر کو شردھانجلی دے تو اس پر شرعاً کیا حکم ہے


                 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ                                  
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسلہ کے بارے میں کہ ایک سنی صحیح العقیدہ عالم دین وطن پرستی کے نام پر جو غیر مسلم ہے اور ہندوستان کے سرحدوں پر اپنی جان قربان کردےء ان کی یاد میںश्रधानजली کے طور پر نعرے لگائے اور موم بتیاں جلا ءے ایسے عالم پر حکم شرعی کیا ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں 

               المستفتی؛- ساحل احمد پورنوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

صورت مستفسرہ پر روشنی ڈالنے سے پہلے یہ واضح ہوجائے کہ شردھانجلی کسے کہتے ہیں؟ شردھانجلی یعنی کافر کے موت کے بعد اس کی تصویر کو عزت کے ساتھ کسی بلند جگہ پر رکھ کر اس کے سامنے ہاتھ باندھ کر اس کے لئے دعا کرنا تاکہ اسے سوگ {آرام کی جگہ یا بلفظ دیگر جنت} ملے، اور اس کی عزت افزائی کے لیے اس کی مورتی یا فوٹو پر پھول چڑھانا-" معاذاللہ صد بار معاذاللہ، صورت مستفسرہ میں کسی مسلمان کا مردہ کافر کی تصویر {مورتی} پر پھول چڑھانا حرام حرام حرام اشد حرام ہے, اور اگر وہ عالم بنیت تعظیم چڑھایا جیساکہ سوال میں ذکر ہے' پھر تو کفر ہے, جیساکہ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ مجمع الانہر، شرح ملتقی الابحر وفتاویٰ ظہیریہ اور الاشباء والنظائر وتنویر الابصار  اور مختار وغیرہا میں ہے ("یکفر بتبجیل الکافر حتیٰ لو سلّم علی الذمی تبجیلًا کفر وبقوله للمجوسی یا استاذ تبجیلًا") ترجمہ؛- کافر کی تعظیم کفر ہے, حتیٰ کہ اگر کسی نے ذمی کو تعظیمًا سلام کہا تو یہ کفر ہے, کسی نے مجوسی کو بطور تعظیم یا استاد کہا' تو یہ بھی کفر ہے، (فتاویٰ رضویہ جلد 14 صفحه 672 رضا فاؤنڈیشن لاہور) لہذا ثابت ہوگیا کہ کافر کو جب بحالت حیات برائے تعظیم سلام کرنے کو علماء کفر کہتے ہیں-" تو بعد موت برائے تعظیم اس پر پھول چڑھانا تو بدرجہ اولیٰ کفر اشد کفر ہوگا'' اور ساتھ ہی ساتھ کفار کے عقیدہ کفر کو بڑھاوا دینا ہے- جو اشد کفر ہے, اور شعار کفار کو اختیار کرنا اور اس پر راضی ہونا بال اجماع کفر ہے جیساکہ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ مخ الروض الازھر میں ہے ("من رضی بکفر نفسه فقد کفر ای اجماعا وبکفر غیرہ اختلف المشائخ") ترجمہ؛- جو اپنی ذات کے کفر پر خوش ہوا وہ بالاتفاق کافر ہے' اور جو کسی دوسرے کے کفر پر خوش ہوا اس کے بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے- اور کفر پر رضا جیسی سو برس کے لئے ویسے ہی ایک لمحہ کے لئے، والعیاذ بااللہ تعالیٰ (فتاویٰ رضویہ جلد 14 صفحه 672 ) تو کفار کے عقائد باطلہ کو اختیار کرنا تو اشد کفر ہوگا' نیز فقیہ ملت علیہ الرحمہ تو مطلقاً کسی کافر کی مورتی پر پھول چڑھانے کو کفر وشرک لکھتے ہیں' لہذا مورتیوں پر پھول مالا چڑھانے والے کافر ومرتد ہیں، خواہ وہ کسی کی مورتی ہو- ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ اعلانیہ توبہ واستغفار کریں' اور جو بیوی والے ہوں وہ تجدید نکاح بھی کریں' (فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحه 25) ایسا کرنے والا کافر ومرتد اسلام سے نگل گیا، اور اس کی بیوی اس کے نکاح سے، اس پر ویسے ہی مجمع کثیر میں اعلی الاعلان توبہ کرنا' از سرِ نو مسلمان ہونا فرض ہے، اور رسول اللّٰہ ﷺ نے فرمایا ("اذا عملت سیئۃ فأحدث عندھا توبۃ السرّ بالسر والعلانیۃ بالعلانیۃ رواہ الأمام أحمد فی الزھد والطبرانی فی الکبیر بسند حسن عن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ") ترجمہ:- جب تو کسی برائی کا ارتکاب کرے، تو توبہ بھی اسی طرح کی جائے، مثلاً خفیہ گناہ پر خفیہ توبہ اور اعلانیہ گناہ پر اعلانیہ توبہ ضروری ہے، اسے امام احمد نے زہد میں اور امام طبرانی نے المعجم الکبیر میں سند حسن کے ساتھ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کیا ہے(کنزالعمال، بحوالہ أحمد بن حنبل فی الزھد،) (رسم و رواج کی شرعی حیثیت صفحه 329) [ماخوذ؛ فتاویٰ غوثیہ جلد اول صفحه 79]

                           واللہ اعلم بالصواب

               کتبہ فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only