دولہے کو سلامی کا پیسہ لینا کیسا ہے؟؟؟


               اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماٸے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ نکاح کے بعد لڑکے کو سلامی دی جاتی ھے۔ اور ایک موٹی رقم طے ہوتی ہے۔ اور ایک جانکاری کے مطابق معلوم ہوا ھے کہ اگر لڑکے والے کو سلامی کی رقم نہ دی جاٸے تو لڑکی کو میکے میں کوٸی عزّت نہیں ملتی۔ اور اسے حقیرانہ نظر سے دیکھتے ھیں۔ سوال یہ ھیکہ اس طرح سے سلامی لینا عند الشرع کیسا ھے ؟مہربانی فرما کر جواب تھوڑی تفصیل میں دیں۔

            ساٸل ایم۔ کے۔ رضا صدیقی اسمٰعیلی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

               الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

شادی پر دولہا کو جو پیسے دیئے جاتے ہیں- اسے نیوتا، یا سلامی کہا جاتا ہے،‌ نیوتا؛- کی دو صورتیں ہیں, ایک صورت میں یہ قرض ہے' اور ایک صورت میں یہ تحفہ ہے' جن برادریوں میں نیوتا کو باقاعدہ لکھا جاتا ہے، تو لینا جائز ہے، اور واپسی نہ ہونے پر مطالبہ کیا جاتا ہے' وہاں یہ قرض ہے' اس کا واپس کرنا ضروری ہے،،فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے کہ اب جو نیوتا دیا جاتا ہے- وہ قرض ہے' اس کا ادا کرنا لازم ہے، اگر رہ گیا تو مطالبہ رہے گا, اور بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگا----'"والمسئلۃ فی الفتاوی الخیریۃ---"'{اور یہ مسئلہ فتاویٰ خیریہ میں موجود ہے،} چارہ کار یہ ہے کہ لانے والوں سے پہلے صاف کہہ دے کہ جو صاحب بطور امداد عنایت فرمائیں, مضائقہ نہیں- مجھ سے ممکن ہوا تو ان کی تقریب میں امداد کروں گا، لیکن میں قرض لینا نہیں چاہتا- اس کے بعد جو شخص دے گا وہ اس کے ذمہ قرض نہ ہوگا' ہدیہ ہے' جس کا بدلہ ہوگیا فبہا" نہ ہوا تو مطالبہ نہیں- واللہ اعلم بالصواب(فتاویٰ رضویہ جلد23 صفحه 586 رضا فاؤنڈیشن لاہور)اور دوسری جگہ سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ نیوتا وصول کرنا' شرعاً جائز ہے، اور لوٹانا ضروری ہے کہ وہ قرض ہے'(فتاویٰ رضویہ جدید جلد23 صفحه 268) اور جن برادریوں میں مطالبہ نہیں وہاں یہ ہدیہ ہے' جیساکہ مفتی وقار الدین قادری علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ جن لوگوں میں برادری نظام ہے' ان میں نیوتا قرض ہی شمار کیا جاتا ہے، وہ لکھ کر رکھتے ہیں کس نے کتنا دیا ہے, اس کے یہاں شادی ہونے کی صورت میں اتنا ہی واپس کرتے ہیں' ان برادریوں میں نیوتا قرض ہی سمجھا جاتا ہے, لہذا کم یا زیادہ نہیں کر سکتے- اصل سے زیادہ دیں گے تو وہ زیادتی سود شمار ہوگی- اور جن برادریوں میں ایسا کوئی برادری کا قانون نہیں ہے یا غیر برادری کے لوگ دوستی, تعلقات اور عقیدت کی وجہ سے شادی میں کچھ دیتے ہیں وہ ہدیہ ہے'(وقار الفتاویٰ جلد 3 صفحه 116 بزم وقار الدین کراچی')اور ہمارے یہاں زیادہ تر نیوتا ہدیہ ہی ہوتا ہے، کہ واپسی نہ کرنے پر مطالبہ نہیں ہوتا البتہ اگر کسی برادری میں ایسا ہو وہاں یہ قرض ہے' اتنا ہی واپس کرنا ہوگا' زیادہ دیں گے تو سود ہوگا' شادی کے علاوہ دیگر معاملات میں بھی لینے دینے کا رواج ہے' جیسے کوئی رشتہ دار عمرہ یا حج کرکے آئے تو اور کس کی سالگرہ پر جائیں تو اور کسی کی ختم میں جائیں تو کچھ لے کر جایا جاتا ہے، ان تمام تر چیزوں کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ کبھی ہم حج عمرہ کو جائیں گے، تو وہ بھی دیں گے، ان سب کا حکم بھی سلامی کی طرح ہے' جہاں مطالبہ کیا جاتا ہے، وہاں یہ قرض کے حکم میں ہے' ورنہ یہ تحفہ ہے'حاصل کلام یہ ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ یہ لینے دینے کا نظام ختم کیا جائے کہ اکثر دیکھا گیا ہے' کہ اگر کسی کو دعوت دیا جائے تو وہ بجائے خوش ہونے کے غمگین ہوجاتا ہے کہ فلاں نے اتنے دیئے تھے، مجھے بھی اتنا ہی دینا پڑے گا، چاہے حالات کیسے بھی ہوں،، لہذا ہوسکے تو نہ پیسے لیں اور نہ ہی دیں، تاکہ خوشی کے موقع پر خوش ہوکر جایا جائے، مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حدیث پاک میں ہے کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دو، محبت بڑھے گی،، مگر اس ہدیہ کو ٹیکس نہ بنالو کہ وہ بیچارا اس کے بغیر آہی نہ سکے,,(اسلامی زندگی صفحه 25 قادری پبلیشرز لاہور)[["ماخوذ؛ رسم و رواج کی شرعی حیثیت صفحه 240، مکتبہ فیضان شریعت"]] [فتاویٰ اکرمی صفحه 377 ]

                       واللہ اعلم بالصواب

               کتبہ فقیر محمد عمران رضا ساغر

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے