6.20.2020

جن روزوں کا فدیہ ادا کر دیا ہو تو کیا انکی قضاء بھی ضروری ہے؟


                السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کسی اسلامی بہن کا پورا ماہ رمضان نفاس کی حالت میں گزرا اور انہوں نے اسکا فدیہ دے دیا ہے تو اب ان روزوں کی قضا کرنا ضروری ہے کہ نہیں یا جو اس نے ان روزوں کا فدیہ دیا ہے وہ روزے کے لیۓ کافی ہوگا یا وہ صدقۂ نفل ہو جاۓ گا ؟
                          سائل بندۂ خدا 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ 

                   الجواب بعون الملک الوھاب

رب العالمین کا ارشاد پاک ہے(وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍؕ-فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗؕ)اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھاناپھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے (سورہ بقرہ آیت ١٨٤) حیض و نفاس والی عورت اور وہ لوگ جو بیمار ہوں یا مسافر ہوں انہیں روزہ نہ رکھنے اجازت ہے لیکن جب حیض ونفاس والی عورت کا حیض و نفاس ختم ہو جائے بیمار ٹھیک ہو جائے اور مسافر مقیم ہو جائے تو ان سب پر روزے کی قضاء واجب ہے اور جو روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہ رکھتا ہو اس پر ہر روزے کے بدلے فدیہ دینا واجب ہے چاہے وہ مسکین کو کھانا کھلاۓ یا آدھا صاع گیہوں دے اور آگے روزہ رکھنے کی قوت آجاۓ تو روزہ کی قضاء ضروری ہے (ھکذا صراط الجنان سورہ بقرہ آیت ١٨٤) صورت مسئولہ میں نفاس والی عورت پر روزے کی قضاء واجب ہے اور جو فدیہ دیا ہے وہ صدقہ ہوگیا یہ فدیہ روزہ کے لئے کافی نہ ہو گا 

                        واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ ٢٤ شوال المکرم ١٤٤١ ١٧ جون ٢٠٢٠

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only