کیا کھانے کے دوران اذان کا جواب دے سکتے ہیں

    
               السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

ایک سوال عرض ہے کہ افطار کے وقت پہلے افطار کرے یا اذان کا جواب دے یا جیسے عام دنوں میں کہ آدمی کھانا کھارہا ہے اور مسجد میں اذان ہورہی ہے تو کیا وہ شخص اذان کا جواب دے یا کھانا کھانے کے بعد دے اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

                      سائل ابو محمد بکر الھند 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

                   الجواب بعون الملك الوھاب

افطار میں تعجیل مستحب ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ قال رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم قال اللہ عزوجل احب عبادی الی اعجلھم فطرا۔یعنی مجھے میرے بندوں میں سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو افطار میں جلدی کرتا ہے۔ترمذی شریف جلد اول صفحہ نمبر/150) لہٰذا جب سورج ڈوبنے کا یقین ہوجائے تو فوراً افطار کرلے تاخیر نہ کرے اور جو لوگ آذان کی آواز سن کر افطار پر مطلع ہوتے ہیں انہیں بھی چاہیئے کہ آذان شروع ہوتے ہی فوراً افطار کرلیں ختم آذان تک انتظار نہ کریں مگر افطار کرکے آذان مکمل ہونے تک کھانا پینا موقوف رکھیں اور کلمات آذان کا جواب دیں زبان سے آذان کا جواب دینا واجب نہیں بلکہ صرف مستحب ہے ہاں اجابت بالقدم واجب ہے جیسا کہ درمختار کتاب الاذان میں ہے ویجیب وجوبا وقال الحوانی ندبا والواجب الاجابۃ بالقدم ۔اھ (الدرالمختار فوق ردالمحتار جلد اول صفحہ 396) افطار کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ قبل آذان ہی افطار کرلے اور اگر آذان شروع ہونے پر افطار کرے تو تھوڑا کھا پی کر ٹھہر جائے کہ آذان کے وقت حکم ہے کہ جب آذان ہوتو اتنی دیر کیلئے سلام کلام تمام اشغال موقوف کردے یہاں تک کہ قرآن مجید کی تلاوت میں آذان کی آواز آئے تو روک دے اور آذان کا خاموشی سے جواب دے جیسا کہ فتاوی عالمگیری کتاب الاذان میں ہے ولاینبغی ان یتکلم السامع فی خلال الاذان والاقامۃ ولا یشتغل بقراءۃالقرآن ولا بشئ من الاعمال سوی الاجابۃ ولو کان فی القراءۃ ینبغی ان یقطع ویشتغل بالاستماع والاجابۃ کذافی البدائع اھ۔جلدنمبر 1صفحہ نمبر 57/وھکذا فی الجزاء الاول من فتاوی فیض الرسول (ماخوذ فتاویٰ مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 471 روزہ کا بیان )الحاصل یہ کہ اگر اذان ہورہی ہے تو اس وقت کوئی بھی چیز مثلاً کھانا پینا یا باتیں کرنا جائز و درست نہیں ہے بلکہ جب اذان ہوتو اتنی دیر خاموشی سے اذان سنیں اور اس کا جواب دیں ۔ رمضان شریف کےعلاوہ بھی کسی بھی وقت کااذان ہو سب کا حکم یکساں ہے کہ کھانا پینا موقوف کردیا جائے۔

                       واللہ اعلم باالصواب

کتبہ محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند موبائیل فون/9454675382

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے