والی بال کبڈی و کرکٹ وغیرہ کھیلنا کیسا ہے؟

         
               السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والی بال کبڈی و کرکٹ وغیرہ کھیلنا کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں.

                سائل محمد وارث علی رضوی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

                   الجواب بعون الملک الوھاب

حدیث شریف میں تین کھیل کے علاوہ اور کھیلوں کو منع کیا ہے گیا ہے.(1)بیوی کے ساتھ.(2)گھوڑسواری (3)تیر اندازی لیکن زمانہ کے اعتبار سے کچھ چیزوں کی اجازت ہمارے علماء نے دی ہے اگرچہ وہ بظاہر قرآن و احادیث کے برعکس ہے یونہی بطور ورزش کرکٹ کبڈی وفٹبال چند شرطوں کے ساتھ کھیلنا جائز ہے1)لہو لعب کے طور پر نہ ہو بلکہ بطور ورزش ہو. 2)ستر پوشی کے ساتھ ہو ران گھٹنہ کھلا نہ ہو. 3)کھیل میں رقم نہ لگائی جاتی ہو بلکہ بلاکسی شرط کے ہو. 4)نماز ترک نہ ہوتاہو بلکہ نماز کے وقتوں میں نماز اداکی جائے.5)عورتوں کا وہاں مجمع نہ ہو اور نہ کھیل میں عورتیں شامل ہوں.اگر ان شرطوں کے ساتھ کھیلا جائے تو کرکٹ کبڈی وفٹبال کھیلنا جائز ہے جیسا کہ علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں "ورزش کے لئے یہ کرکٹ فٹبال کبڈی گھوڑ دور پیدل دور کا مقابلہ نیزہ بازی کشتی بنوٹ وغیرہ کا کھیلنا جائز ہے بشرطیکہ نمازیں ترک نہ ہوں اور گھٹنے اور ران نہ کھلنے پائیں اور اگر کوئی شخص ورزش کے ساتھ ساتھ جہاد کی تیاری کی نیت شامل کر لے کہ اس طرح سے طاقتور ہو کر وقت ضرورت جہاد کرونگا تو اس کو ان کھیلوں پر ثواب بھی ملے گا قرآن مجید میں ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے عرض کیا کہ اَرۡسِلۡهُ مَعَنَا غَدًا يَّرۡتَعۡ وَيَلۡعَبۡ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ ( پ١٢ سورہ یوسف آیت ١٢) ترجمہ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ میوے کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کے نگہبان ہیں.(کنزالایمان)مطلب یہ تھا کہ یوسف علیہ السلام ہمارے ساتھ جنگل میں جاکر میوہ توڑ توڑ کر کھائیں اور تفریح کے لئے حلال قسم کے کھیل مثلاً شکار تیراندازی کا مقابلہ دوڑ کا مقابلہ وغیـــــرہ کھلیں تو یعقوب علیہ السلام نے ان کو جنگل میں جاکر اس قسم کے کھیل کی اجازت دے دی اور انھوں نے جنگل میں جاکر بھائیوں کے ساتھ ان کھیلوں میں حصہ لیا واضح رہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت یوسف علیہ السلام دونوں خدا کے نبی برحق ہیں اور دونوں نبیوں نے اس کھیل کے جائز ہونے پر جواز کی مہر لگا دی ان دونوں مقدس پیغمبروں کے علاوہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں نیزہ بازی کے کھیل کی حبشیوں کو اجازت دی اور خود ان کے کھیل کو دیکھا چنانچہ بخاری شریف کی متعدد روایتوں میں یہ حدیث صحیح موجود ہے کہ مسجد نبوی میں حضور علیہ السلام کی موجود گی میں حبشی لوگ اپنے نیزے سے کھیل رہے تھے اسی درمیان حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور ایک مٹھی کنکری لیکر ان حبشیوں کو مارا تو اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر ان لوگوں کو چھوڑ دے اور کھیلنے دے.بحوالہ بخاری شریف جلد ١ صفحہ نمبر ٤٠٦ بالہوبالحراب و نحوہا" (مسائل القرآن ص ٢٤١)غورکیجئے کہ نیزہ بازی کا اُس حدیث کے خلاف ہے جس میں صرف تین کھیل کا ذکر ہے مگر چونکہ نیزہ بازی بھی جہاد میں معاون ہے اور اس سے جسم کی بھی ورزش ہوتی ہے اس لئے حضور علیہ السلام نے اس کی اجازت دی.اگرچہ اِس زمانہ میں جہاد فرض نہیں ہے مگر پھر بھی آئے دن غیروں سے ہمیں نقصان پہونچتا رہتا ہے اور ہم کبھی کلمہ کفر کہتے ہوئے نظر آتے ہیں تو کبھی جان گواتے ہوئے نظر آتے ہیں حالانکہ قرآن و حدیث کے مطالعہ سے یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان دس کافروں پر بھاری ہے مگر ہمارا حال یہ ہے کہ ہم ایک سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں اگر ہم ورزش کرتے رہیں اور اپنے جسم کو توانا وقوی بناتے رہے تو ضرور دین وجان کی حفاظت کرے پائیں.علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ ایک صفحہ بعد تحریر فرماتے ہیں "خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید اور صحیح حدیثوں سے یہ مسئلہ نورٌ علی نور ہو جاتا ہے کہ ہر وہ جائز کھیل جس میں جسمانی ورزش سے بدن میں طاقت پیدا ہو تاکہ وہ طاقت جہاد اور دوسرے دینی ودنیاوی فرائض کی ادائیگی میں مدد گار ثابت ہو - بلا شبہ جائز بلکہ مستحب ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہمارے اس زمانے کے مولویوں اور مدارس عربیہ کے ناظموں کا بھلا کرے اور ہدایت کرے جہاں تک مجھے علم ہے کسی مدرسہ میں طلبہ کے ورزشی کھیلوں کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے جس سے طلبہ کی صحت اس قدر خراب رہتی ہے کہ بانوے فیصدی طلبہ معدہ کے مریض رہتے ہیں آپ سوچیۓ کہ یہ دھان پان قسم کے مولوی صاحبان کس طرح جہاد کریں گے اور کیونکر تدریس وتبلیغ کے میدان میں محنت ومشقت کریں گے اور جدوجہد کریں گے ظاہر ہے کہ بغیر صحت وتندرستی کے دین کا کوئی کام کما حقہ نہیں ہو سکتا اس لئے میراحقیر مگر مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ مدارس عربیہ میں مدرسہ کی طرف سے کسی ورزش کھیل کا بھی انتظام ہونا چاہئے اور طلباء کے حفظان صحت پر بھی خصوصی توجہ رکھنی چاہئے. (مسائل القرآن ص ٢٤٣)مجھ فقیر کے نزدیک علامہ عبد المصطفی اعظمی علیہ الرحمہ کا قول درست ہے یعنی بطور ورزش مذکورہ شرائط کی پابندی کے ساتھ کرکٹ، فٹبال، کبڈی وغیرہ کھیلنا جائز ہے.
                      واللہ اعلم بالصواب

      کتبہ الفقیر تاج محمد حنفی قادری واحدی اترولوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے