کیا امام نکاح کی رقم لے سکتا ہے ؟)

             السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسلہ کے بارے میں کہ نکاح کا ہدیہ موجود مسجد کے امام کو لینے کا حق ہے یا نہیں کیا اس مسئلے پر شریعت کا کیا حکم ہے جواب عنایت فرمایں بہت نوازش ہوگی

                  سائل غلام رسول برکاتی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکا تہ  

                   الجواب بعون الملک الوہاب 

نکاح پڑھا نے وا لا نکاح پڑھا نے کی اجرت لے سکتا ہے اسی کا حق ہے خواہ امام ہو یا مدرس جیسا کہ فقیہ اعظم ہند حضور صدرالشریعہ علا مہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمۃ ورضوان تحریر فر ما تے ہیں کہ نکاح خواں کو اجرت نکاح خوانی لینا جا ئز ہے۔ (فتا وی امجدیہ ج۴ص ۲۷۶)ہاں ضد نہ کرے بلکہ مسلما نوں کو چا ہئے کہ نکاح خوا نی کی اجرت زیا دہ ہی دیں مشا ہدہ ہے کہ اکثر شا دیو ں میں ہر معا ملہ ختم ہو جا تا ہے جھگڑا صرف نکاح خوانی کی اجرت پر رہتا ہے یہ معا ملہ ختم ہی نہیں ہو تا ہے ہم اپنی او لا د کی شا دیوں میں نہ جا نے کتنے فضو ل خر چ کر تے ہیں اور دیگر محا فلوں میں روپیوں کو اڑا تے ہیں مگر جب نکا ح خوا نی کی اجرت دینی پڑتی ہے تو کہتے ہیں ہم بہت غریب ہیں اور یہ نکاح خوا نی کی اجرت لینا کہاں سے ثا بت ہے خیال رہے کہ جا ہلو ں کو صرف حکم شرع معلوم کر نے کا حق ہے اور حوالہ کتا ب کا نام اور صفحہ طلب کر نا اپنے منصب سے آ گے بڑھنا ہے

       ۔(و اللہ تعا لی و رسو لہ الاعلی اعلم با لصواب

             کتبہ حقیر محمد علی قادری واحدی

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ