زندہ آدمی کی فاتحہ خوانی کرنا کیسا ؟



 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکتہ

(سوال) ہمارے گاؤں میں زندہ آدمی کی قرآن خوانی کی گئی ہے لوگوں کو کھانا کھلایا گیا ہے اور امام صاحب کو پیسے دیے گئے ہیں تو کیا اس کھانے کو کھانا اور امام صاحب کے لیے پیسے لینا جائز ہے؟

(جواب) اہل سنت کے نزدیک زندوں کو ثواب پہنچانا بھی جائز ہے اور قرآن خوانی کے لیے پیسہ لینا جائز نہیں ہے بدائع میں ہے من صام أو صلى أو تصدق وجعل ثوابه لغيره من الأموات أو الأحياء جاز ويصل ثوابها إليهم عند أهل السنة والجماعة وقد صح عن رسول الله ﷺ أنه ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عن أمته ممن آمن بوحدانية الله تعالى وبرسالته» ﷺ وروي أن سعد بن أبي وقاص سأل رسول الله ﷺ فقال يا رسول الله إن أمي كانت تحب الصدقة أفأتصدق عنها؟ فقال النبي ﷺ تصدق وعليه عمل المسلمين من لدن رسول الله ﷺ إلى يومنا هذا من زيارة القبور وقراءة القرآن عليها والتكفين والصدقات والصوم والصلاة وجعل ثوابها للأموات ولا امتناع في العقل أيضا لأن إعطاء الثواب من الله تعالى إفضال منه لا استحقاق عليه فله أن يتفضل على من عمل لأجله بجعل الثواب له كما له أن يتفضل بإعطاء الثواب من غير عمل رأسا یعنی جو شخص روزہ رکھے یا نماز پڑھے یا صدقہ کرے اور اس کا ثواب کسی دوسرے کے لیے مقرر کر دے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ تو یہ جائز ہے اور اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اس کا ثواب ان تک پہنچتا ہے اور رسول الله ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آپ نے دو سفید سینگ دار مینڈھے قربان کیے ایک اپنی طرف سے اور دوسرا اپنی امت کی طرف سے ان لوگوں کی جانب سے جو الله تعالیٰ کی وحدانیت اور آپ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنه نے رسول الله ﷺ سے عرض کیا یا رسول الله میری والدہ صدقہ کرنا پسند کرتی تھیں تو کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا صدقہ کرو اور اسی پر مسلمانوں کا عمل رسول الله ﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک چلا آ رہا ہے قبروں کی زیارت وہاں قرآن پڑھنا کفن دینا صدقات کرنا روزہ رکھنا نماز پڑھنا اور ان سب کا ثواب اموات کے لیے مقرر کرنا اور عقل کے اعتبار سے بھی اس میں کوئی مانع نہیں، کیونکہ ثواب عطا کرنا الله تعالی کا محض فضل ہے کسی پر اس کا حق لازم نہیں لہذا الله تعالی کو یہ اختیار ہے کہ جس کے لیے عمل کیا گیا اس کو ثواب عطا فرمائے جیسے اسے یہ بھی اختیار ہے کہ بغیر کسی عمل کے محض اپنے فضل سے ثواب عطا فرما دے والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ