مال ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز توڑنا کیسا؟


(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ نماز بلا عذر توڑنا حرام ہے، لیکن اگر مال کے تلف (ضائع ہونے) کا اندیشہ ہو تو نماز توڑنے کا کیا حکم ہے؟ مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں

(جواب) جائز ہے جبکہ وہ قیمت میں درہم کے برابر ہو ایک درہم ٣.٢٦٥ گرام ہوتا ہے جس کی قیمت آج ممبئی میں سات سو اٹھاون رویے ہیں۔ اور کہا گیا جبکہ وہ ایک دنق یعنی درہم کے چھٹے حصے سے زیادہ ہو اور کثرت اسے واجب نہیں کرے گی یعنی اگرچہ لاکھ روپیہ کا مال ہو نماز توڑنا واجب نہ ہوگا مراقی الفلاح (١٤٨/١) میں ہے يجوز قطع الصلاة ولو كانت فرضا إذا خيفت السرقة على مال يساوي درهما لأنه مال وقال النبي ﷺ قاتل دون مالك وكذلك فيما دونه في الأصح لأنه يحبس في دانق وكذلك إذا فارت قدره أو خافت على ولدها أو طلب منه كافر عرض الإسلام عليه ولو كان المسروق لغير المصلي؛ لدفع الظلم والنهي عن المنكر. ويجوز قطع الصلاة لخشية خوف من ذئب ونحوه على غنم ونحوها. علامہ طحطاوی (٣٧٢/١) کی شرح میں ہے «لأنه يحبس في دانق» ظاهر التقييد أنه لا يباح قطع الصلاة ولا الحبس لما دون الدانق لحقارته أفاده بعض الأفاضل وفي المصباح الدانق معرب وهو سدس الدرهم والدرهم الإسلامي ست عشرة حبة خرنوب والدانق حبتا خرنوب وثلثا حبة وكسر النون أفصح من فتحها اهـ بہار شریعت میں ہے سانپ وغیرہ کے مارنے کے لیے جب کہ ایذا کا اندیشہ صحیح ہو یا کوئی جانور بھاگ گیا اس کے پکڑنے کے لیے یا بکریوں پر بھیڑیے کے حملہ کرنے کے خوف سے نماز توڑ دینا جائز ہے یوہیں اپنے یا پرائے ایک درہم کے نقصان کا خوف ہو مثلا دودھ ابل جائے گا یا گوشت ترکاری روٹی وغیرہ جل جانے کا خوف ہو یا ایک درہم کی کوئی چیز چور اچکا لے بھاگا ان صورتوں میں نماز توڑ دینے کی اجازت ہے (بہار شریعت حصہ سوم مکروہات کا بیان مسئلہ: ٨٥) والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ