(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ قبرستان میں جوتا پہن کر چلنے سے حدیثِ شریف میں منع کیا گیا ہے، اور فتاویٰ رضویہ شریف میں یہ مذکور ہے کہ جہاں قبر نہ ہو وہاں جوتا پہن کر چل سکتے ہیں اگرچہ قبرستان ہی ہو تو ان دونوں میں صحیح اور راجح کیا ہے؟
(جواب) رضویہ میں قبرستان کے اس قدیم راستے پر چلنے کی اجازت مذکور ہے جس پر قبریں نہ ہوں قدیم کہہ کر ان تمام جدید راستوں کو جواز سے خارج کر دیا جن نے بارے میں شبہ ہوکہ قبروں پر بنے ہیں اور حدیث کی ممانعت قبرستان کے راستے پر چلنے کے بارے میں نہیں ہے قال رحمة الله عليه: یہاں تك ہمارے علماء نے تصریح فرمائی قبرستان میں جو نیا راستہ نکالا گیا ہو اس میں آدمیوں کو چلنا حرام ہے (٤٤٤/٩) ہاں جو قدیم راستہ قبرستان میں ہو جس میں قبر نہیں اس میں چلنا جائز ہے اگر چہ جُوتا پہنے ہو (٤٠٨/٩) والله تعالى أعلم بالصواب
کتبہ ندیم ابن علیم المصبور العینی ممبئی مہاراشٹر انڈیا
