(سوال) ایک مسئلہ یہ ہے کہ کوئی عالم اپنے تقریر میں یہ لفظ استعمال کرتا ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمه الله کے آمد سے قبل راجا کی ماں یہ پیشینگوئی کرتی ہیں کہ ایک فقیر آئے گا جو تیری حکومت کو ختم کر دے گا کیا کافر کے لیے الہام کا عقیدہ درست ہے؟
(جواب) الہام شرعی یعنی الله کی طرف سے خاص دل میں ڈالا جانا انبیاءِ کرام علیہم السلام اور اولیاءِ صالحین کے ساتھ خاص ہے کفار و مشرکین کے حق میں یہ عقیدہ رکھنا کہ انہیں بھی الله کی طرف سے الہام ہوتا ہے درست نہیں ہے کیونکہ کفار ولایت کے اہل نہیں ہوتے ہاں یہ ضرور ہے کہ انہیں کبھی کوئی بات خبر اندازے سابقہ تجربے یا خواب ووساوس کے ذریعے معلوم ہو جائے قرآن میں ہے کہ شیطان بھی اپنے دوستوں کے دلوں میں بات ڈالتا ہے: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰ أَوْلِيَائِهِمْ (القرآن الکریم ٦/١٢١) لہذا اگر کسی کافر سے کوئی پیشین گوئی منقول ہو تو اسے شیطانی القاء کہا جا سکتا ہے، الله کی طرف نسبت کر کے الہام کہنا درست نہیں والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
