کیا ڈیورس کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟



(سوال) کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو مذاق میں تین مرتبہ ڈیورس کہا مگر ایک ساتھ نہیں بلکہ رک رک کر کہا تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

(جواب) اگر شوہر نے صرف یہی لفظ ڈیورس کہا ہو اور نہ یہ کہا ہو کہ میں نے طلاق دی نہ یہ کہا ہو کہ تجھ کو یا اپنی بیوی کو، اور نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں ہوں جن سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً اصلاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی اور عورت بدستور اس کے نکاح میں رہتی ہے دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں اور اگر ان الفاظ کے ساتھ یا اس کلام کے سیاق و سباق میں ایسا قرینہ موجود ہو جس سے عورت کو طلاق دینا سمجھا جاتا ہو، یا شوہر خود اقرار کرے کہ میں نے یہ الفاظ اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے تو اس صورت میں تین دفعہ اگرچہ وقفہ کرکے کہنے سے تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور پھر بغیر شرعی حلالہ کے اس عورت کا پہلے شوہر سے نکاح جائز نہ ہوگا (فتاوی رضویہ ٣٥٤/١٢) 

والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0