کیا ڈیورس کہنے سے طلاق ہو جاتی ہے ؟



(سوال) کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو مذاق میں تین مرتبہ ڈیورس کہا مگر ایک ساتھ نہیں بلکہ رک رک کر کہا تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

(جواب) اگر شوہر نے صرف یہی لفظ ڈیورس کہا ہو اور نہ یہ کہا ہو کہ میں نے طلاق دی نہ یہ کہا ہو کہ تجھ کو یا اپنی بیوی کو، اور نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں ہوں جن سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہوتا ہو، تو ایسی صورت میں شرعاً اصلاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی اور عورت بدستور اس کے نکاح میں رہتی ہے دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں اور اگر ان الفاظ کے ساتھ یا اس کلام کے سیاق و سباق میں ایسا قرینہ موجود ہو جس سے عورت کو طلاق دینا سمجھا جاتا ہو، یا شوہر خود اقرار کرے کہ میں نے یہ الفاظ اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے کہے تھے تو اس صورت میں تین دفعہ اگرچہ وقفہ کرکے کہنے سے تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اور پھر بغیر شرعی حلالہ کے اس عورت کا پہلے شوہر سے نکاح جائز نہ ہوگا (فتاوی رضویہ ٣٥٤/١٢) 

والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ