نماز کے علاوہ اذان کتنے مواقع پر کہنا مستحب ہے؟

 


(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ نماز کے علاوہ اور کتنے مواقع پر اذان کہنا مستحب ہے؟

(جواب) نماز کے علاوہ متعدد مواقع پر اذان کہنا مستحب ہے۔ قال الإمام النعيمي في شرح المشكاة (٣٩٩/١) : نماز کےعلاوہ نو جگہ اذان کہنا مستحب ہے بچے کے کان میں آگ لگتے وقت، جنگ میں جِنات کے غلبہ کے وقت غمزدہ اور غصے والے کے کان میں،مسافر جب راستہ بھول جائے مرگی والے کے پاس اور میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ ڈگری حاصل کی جا رہی ہے...
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
لال سوئی خانہ کعبہ کی سمت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0