نماز کے علاوہ اذان کتنے مواقع پر کہنا مستحب ہے؟

 


(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ نماز کے علاوہ اور کتنے مواقع پر اذان کہنا مستحب ہے؟

(جواب) نماز کے علاوہ متعدد مواقع پر اذان کہنا مستحب ہے۔ قال الإمام النعيمي في شرح المشكاة (٣٩٩/١) : نماز کےعلاوہ نو جگہ اذان کہنا مستحب ہے بچے کے کان میں آگ لگتے وقت، جنگ میں جِنات کے غلبہ کے وقت غمزدہ اور غصے والے کے کان میں،مسافر جب راستہ بھول جائے مرگی والے کے پاس اور میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ