کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ تیرہ رجب کو پیدا ہوئے؟



(سوال) کیا علی رضى الله عنه تیرہ رجب کو پیدا ہوئے ہیں؟ اس بارے میں کیا دلائل ہیں؟ 

(جواب) مجھے آپ رضى الله عنه کی تاریخ ولادت اس علم میں لکھی گئی کتب میں نہیں ملی۔ متاخرین کی کتب میں اس کا ذکر ملتا ہے لیکن یہ تاریخ یقینی نہیں ہے حتی کی اہل تشیع کے یہاں بھی اقوال مختلف ہیں مجالسی نے بحار الأنوار (٧/٣٥) میں لکھا ہے روایت ہے عتاب بن اسید سے کہ انہوں نے فرمایا: امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضى الله عنه کی ولادت جمعہ کے دن ماہِ رجب کی تیرہ راتیں گزرنے کے بعد ہوئی، اس وقت نبی ﷺ کی عمر اٹھائیس برس تھی اور یہ واقعہ بعثت سے بارہ سال پہلے کا ہے اور صفوان الجمال نے امام جعفر بن محمد سے روایت کی ہے وہ فرماتے ہیں امیر المؤمنینؑ کی ولادت اتوار کے دن، ماہِ شعبان کی سات تاریخ کو ہوئی اقبال الاعمال میں روایت ہے کہ تیرہ رجب کا دن ہمارے مولا ابو الحسن امیر المؤمنین علی بن ابی طالبؑ کی ولادت کا دن ہے جو بعثت سے بارہ سال پہلے خانۂ کعبہ میں ہوئی۔ شہید نے الدروس میں کہا ان کی ولادت جمعہ کے دن تیرہ رجب کو ہوئی، اور یہ بھی روایت ہے کہ سات شعبان کو ہوئی، نبی ﷺ کی ولادت کے تیس سال بعد۔ یہاں کلام ختم ہوا۔ اھـ اور کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت تیئیس شعبان کو ہوئی۔ اسی طرح موفق بن احمد الخوارزمی نے مناقب میں ذکر کیا ہے کہ حضرت علی کی ولادت مکہ معظمہ میں جمعہ کے دن، الله کے مہینے رجب کی تیرہ تاریخ کو ہوئی، یہ واقعہ عامِ فیل کے تیس سال بعد ہجرت سے تیئیس سال پہلے ہوا اور بعض کے نزدیک پچیس سال پہلے اور بعثت سے بارہ سال قبل اور بعض کے نزدیک دس سال قبل، اور ان کی ولادت رسول الله ﷺ کے خدیجہؓ سے نکاح کے تین سال بعد ہوئی اور اس دن رسول الله ﷺ کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ