اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

مسجد میں صفوں کو پھلانگ کر آگے جانا کیسا ہے؟



(سوال) مسجد میں صفوں کے اندر نمازیوں کو پھلانگ کر آگے جانا کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

(جواب) مسجد میں موجود نمازیوں کو پھلانگ کر آگے جانا شرعاً مکروہِ تحریمی ہے، کیونکہ اس میں لوگوں کو اذیت دینا اور خشوع میں خلل ڈالنا پایا جاتا ہے جبکہ نبی ﷺ نے اذیتِ مسلم سے منع فرمایا ہے اور جمعہ کے بارے میں صریح حدیث وارد ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: اجلس فقد آذيت یعنی بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی (سنن أبي داود م: ١١١٨ سنن النسائی م: ١٣٩٩ حدیث صحیح) اسی بنا پر فقہاء نے فرمایا کہ بلا ضرورت صفیں پھلانگنا ناجائز اور گناہ کے قریب ہے البتہ اگر حقیقی ضرورت ہو جیسے آگے خالی جگہ نظر آ رہی ہو اور لوگوں کو تکلیف دیے بغیر جانا ممکن ہو یا امام مؤذن یا خادمِ مسجد ہو تو بقدرِ ضرورت گنجائش ہے جبکہ دوران خطبہ نہ ہو

 والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست