مسجد میں صفوں کو پھلانگ کر آگے جانا کیسا ہے؟



(سوال) مسجد میں صفوں کے اندر نمازیوں کو پھلانگ کر آگے جانا کیسا ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

(جواب) مسجد میں موجود نمازیوں کو پھلانگ کر آگے جانا شرعاً مکروہِ تحریمی ہے، کیونکہ اس میں لوگوں کو اذیت دینا اور خشوع میں خلل ڈالنا پایا جاتا ہے جبکہ نبی ﷺ نے اذیتِ مسلم سے منع فرمایا ہے اور جمعہ کے بارے میں صریح حدیث وارد ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھا تو نبی ﷺ نے فرمایا: اجلس فقد آذيت یعنی بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی (سنن أبي داود م: ١١١٨ سنن النسائی م: ١٣٩٩ حدیث صحیح) اسی بنا پر فقہاء نے فرمایا کہ بلا ضرورت صفیں پھلانگنا ناجائز اور گناہ کے قریب ہے البتہ اگر حقیقی ضرورت ہو جیسے آگے خالی جگہ نظر آ رہی ہو اور لوگوں کو تکلیف دیے بغیر جانا ممکن ہو یا امام مؤذن یا خادمِ مسجد ہو تو بقدرِ ضرورت گنجائش ہے جبکہ دوران خطبہ نہ ہو

 والله تعالى أعلم بالصواب 

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی

🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق یا نیا سوال پوچھیں:

🕌 اوقاتِ نماز (آج کا شیڈول)

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
نوٹ: 1 سے 2 منٹ کی احتیاط ملحوظ رکھیں۔

🧭 سمتِ قبلہ کمپاس

قبلہ رخ: تقریباً 265° مغرب-جنوب
شمال (N)
جنوب (S)
مشرق (E)
مغرب (W)
موبائل کو بالکل سیدھا ہاتھ پر رکھیں۔ لال سوئی کا رخ کعبہ شریف کی سمت کی طرف گھوم جائے گا۔

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنے مال، نقدی اور سونے چاندی کی مالیت درج کریں:

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0