امام کے ساتھ جِہلاً سلام پھیرنا کیسا ؟


  امام کے ساتھ جہلا سلام پھیرنا 

(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے میں کہ بعض اوقات نماز میں اس قدر غفلت اور سوچ لاحق ہوجاتی ہے کہ بالکل احساس نہیں رہتا، نہ یہ یاد رہتا ہے کہ ہم نے کب سلام پھیرا اور کب نماز سے نکل گئے، پھر سلام کے بعد ہمیں یاد آتا ہے کہ سلام پھیرا جا چکا ہے، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا اس حالت میں خروج بصنعه پایا گیا یا نہیں؟ نیز کیا خروج بصنعه کے لیے نیت اور ارادے کا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟ اور اگر خروج بصنعه کے لیے نیت اور ارادہ شرط نہیں، جیسا کہ الاشباه والنظائر (الفن الاول، القاعدة الثانية، الثامن في بيان عدم اشتراطها في البقاء، ص ٣٨، بيروت) میں مذکور ہے کہ نماز کے ہر جز اور ہر رکن میں حرج کی وجہ سے نیت کا ہونا ضروری نہیں، تو پھر مندرجہ ذیل صورتوں میں بھول کر سلام پھیرنے کے باوجود نمازی نماز سے کیوں نہیں نکلتا: (١) اگر مسبوق امام کے ساتھ بھول سے دونوں جانب سلام پھیر دے، (٢) یا سجدۂ سہو واجب تھا مگر بھول کر دونوں جانب سلام پھیر دیا، (٣) یا کسی شخص نے چار رکعت کی نیت باندھی اور بھول سے دو رکعت پر سلام پھیر دیا، تو ان تمام صورتوں میں خروج بصنعه کیوں متحقق نہیں ہوتا، حالانکہ ان میں بھی بھول کر سلام پھیرنا پایا جا رہا ہے؟ السائل: محمد ناظم عطاری شیری، ساکن: بہیڑی ضلع بریلی شریف۔
(جواب) خروج بصنعہ کے لیے نیت شرط نہیں کہ عبادتِ ذاتِ افعال میں ابتداء کی نیت تمام اجزاء پر منسحب رہتی ہے كما قال الإمام ابن نجیم. لیکن اقوال فقہاء سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب سلام سے خروج سہوا ہو اور نمازی پر کسی فرض یا واجب کی ادائیگی باقی ہو تو استحسان کے طور نمازی حرمت نماز سے خارج نہ ہوگا۔ لہذا مذکور صورتوں میں نیت نہ ہونے باوجود بھی وہ نماز سے نہ نکلے گا۔ قال العلامة ابن نجيم: والحاصل أن المذهب المعتمد أن العبادة التي هي ذات أفعال يكتفي بالنية في أولها، ولا يحتاج إليها في كل فعل اكتفاء بانسحابها عليها، إلا إذا نوى ببعض الأفعال غير ما وضع له. (الأشباه، ص: ٣٨) وقال العلامة السعد التفتزاني: النية في أول الصلاة تجعل باقية إلى آخرها. (التلويح ٤٠٥/١) وقال العلامة الطحطاوي: أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء إكتفاء بإنسحابها عليها ويشترط لها الإسلام والتمييز والعلم بالمنوى وأن لا يأتي بمناف بين النية والمنوي. (حاشية على مراقى الفلاح، ٢١٦/١) 
امام سرخسی کی مبسوط (٩٤/٢) میں ہے: وإن سلم هذا النائم عمدا كانت صلاته تامة؛ لأنه لم يبق عليه شيء من أركانهاوإن سلم ساهيا فعليه أن يتشهد ثم يسلم؛ لأنه قد بقي عليه واجب من واجبات صلاته فلا يصير خارجا بسلامه ساهيا كمن سلم ساهيا وعليه سجود التلاوة. اھـ اور محیط (٢١٤/٢) میں ہے: رجل سلم في الركعتين من الظهر ناسيًا، ثم ذكر فظن أن ذلك يقطع الصلاة، فاستقبل التكبير، ونوى به الدخول في الظهر ثانية، وهو إمام قومه، فكبروا معه ينوون ذلك فهم على صلاتهم الأولى يصلون ما بقي منها، ويسجدون السهو، وذلك لأنه لو خرج عن الصلاة لا يخلو إما أن يخرج بالسلام، أو بالنية، أو بالتكبير لا جائز أن يصير خارجًا بالسلام؛ لأن هذا سلام الساهي لأن حد السهو أن يسلم، وعليه ركن من أركان الصلاة وهو لا يعلم به، وقد وجد هذا الحد هنا فكان سلام الساهي، وقد ذكرنا غير مرة أن سلام الساهي لا يخرج المصلي عن الصلاة. لا جائز أن يصير خارجًا بالنية؛ لأنه نوى إيجاد الموجود وذلك لغو، فصار وجود النية وعدمه بمنزلة. ولا جائز أن يصير خارجًا بمجرد التكبير؛ لأن التكبير وجد في وسط الصلاة، والتكبير في وسط الصلاة، فلا يخرجه عن الصلاة. إذا ثبت أنه لا يصير خارجًا عن الصلاة الأولى، فإذا قعد في الرابعة، ثم قام إلى الخامسة تجوز صلاته، لأنه صلى الظهر خمسًا، وقعد في الرابعة قدر التشهد تجوز صلاته؛ لأنه اشتغل بالنفل بعد إكمال الفرض. وإن لم يقعد في الرابعة قدر التشهد، فسدت صلاته؛ لأنه اشتغل بالنفل قبل إكمال الفرض. محیط (٥١٤/١) پر اس کا مفصل بیان ہے۔ اور عالمگیری (٩٨/١) میں ہے: ولو سلم المسبوق مع الإمام ينظر إن كان ذاكرا لما عليه من القضاء فسدت صلاته وإن كان ساهيا لما عليه من القضاء لا تفسد صلاته؛ لأنه سلام الساهي فلا يخرجه عن حرمة الصلاة. كذا في شرح الطحاوي في باب سجود السهو. والله تعالى أعلم بالصواب 

⚡⚡⚡⚡

كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ