حضرت آپکی بارگاہ میں عرض یہ ہے کہ کیا مرحوم کے لیے دعا کرتے وقت ماں یا باپ کا نام لگانا ضروری ہے
جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی
المستفی محمد سقلین رضا
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مرحوم کے لیے دعا کرتے وقت ماں یا باپ کا نام لگانا شرعاً ضروری نہیں ہے دعا کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور رحمت کی درخواست ہے نہ کہ نسب کی تعیین
قرآن و حدیث میں جہاں بھی اموات کے لیے دعا آئی ہے وہاں نام کے ساتھ والد یا والدہ کا ذکر لازم قرار نہیں دیا گیا
اگر صرف یوں کہا جائے اللّٰہم اغفر لہٗ وارحمہٗ یا اللّٰہم اغفر للمرحوم وارحمہٗ
تو یہ دعا بالکل صحیح اور کافی ہے
البتہ: اگر شناخت کے لیے (مثلاً ایک ہی نام کے کئی افراد ہوں) والد یا والدہ کا نام شامل کر دیا جائے تو یہ جائز ہےمگر لازم نہیں بعض علاقوں میں رواجاً والدہ کا نام لیا جاتا ہے مگر یہ شرعی حکم نہیں بلکہ عرف ہے
خلاصہ: دعا میں نام لینا ضروری نہیں والد یا والدہ کا نام لگانا فرض یا واجب نہیں بغیر نام کے بھی دعا مکمل اور مقبول ہو سکتی ہے
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
