متفرق سوالات وجوابات
(سوال) ہَیْوَا جیسی بڑی گاڑیاں فائنانس پر لینا شرعاً کیسا ہے؟ اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی حلال ہوگی یا حرام جبکہ اس میں انشورنس اور چار افراد کی لائف انشورنس لازمی ہوتی ہے؟
(جواب) اگر گاڑی فائنانس پر لینے کی صورت یہ ہو کہ بینک یا فائنانس کمپنی اصل قیمت پر قرض دے اور اس پر متعین زائد رقم/سود وصول کرے تو یہ ربا ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے اسی طرح لائف انشورنس (جو سود اور غرر پر مبنی ہو) شرعاً ناجائز ہے، لہٰذا اسے لازمی شرط کے طور پر قبول کرنا درست نہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں چونکہ عموماً کمرشل فائنانس سود اور روایتی انشورنس پر ہی مشتمل ہوتا ہے اس لیے ایسی فائنانس سے اجتناب لازم ہے۔ البتہ اس سے کی گئی کمائی حرام نہیں ہے۔ والله تعالى أعلم.
(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شاہزیب نے عاطف سے ایک چادر خریدی، عاطف نے دوستی کی وجہ سے وہ چادر مارکیٹ سے کم قیمت پر دی اور شرط لگائی کہ اس قیمت کو کسی کو نہ بتایا جائے، شاہزیب نے وعدہ کرلیا؛ اب اگر کوئی شاہزیب سے پوچھے کہ یہ چادر کتنے کی لائے ہو تو اگر اصل خریدی ہوئی قیمت بتائے تو وعدہ خلافی ہوگی اور اگر مارکیٹ قیمت بتائے تو جھوٹ ہوگا، تو ایسی صورت میں شاہزیب گناہ سے بچنے کے لیے کیا جواب دے؟ نیز کیا یہ کہنا درست ہے کہ عاطف نے مجھے اصل قیمت بتانے سے منع کیا ہے، اس لیے میں خریدی ہوئی قیمت نہیں بتا سکتا، البتہ مارکیٹ قیمت بتا سکتا ہوں؟
(جواب) یہ کہنا کہ مجھے عاطف نے اصل قیمت بتانے سے منع کیا ہے شرعاً قبیح تو نہیں، مگر مناسب بھی نہیں؛ کیونکہ اس سے سائل کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ شاید چادر کم قیمت پر لی گئی ہے، اسی لیے قیمت نہیں بتائی جا رہی۔ بہتر اور محتاط طریقہ یہ ہے کہ منع کی نسبت صراحتاً عاطف کی طرف نہ کرے بلکہ پہلے نرمی سے معذرت کی جائے، کہا جائے : ”میں آپ کو بتانا پسند کرتا ہوں، مگر کسی وجہ سے بتا نہیں پا رہا، امید ہے آپ برا نہیں مانیں گےاور اگر ضرورت محسوس ہو تو صرف اتنا کہہ دیا جائے کہ عام طور پر ایسی چادر مارکیٹ میں اتنی قیمت میں مل جاتی ہے والله تعالى أعلم
(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مذہب اس مسئلہ میں کہ جب جماعت کھڑی ہو جائے تو فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی نفل یا سنت پڑھنا منع ہے، جیسا کہ حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ جب جماعت قائم ہو جائے تو فرض کے علاوہ کوئی نماز نہیں؛ اب اگر کسی نمازی کو یہ یقین ہو کہ وہ آخری قعدہ میں امام کے ساتھ سلام پا لے گا تو کیا وہ اس وقت قضائے عمری پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ زید کا کہنا ہے کہ جماعت میں شامل ہونا واجب ہے اور قضائے عمری فرض ہے، اس لیے واجب چھوڑ کر فرض ادا کرنا ضروری ہے، جبکہ بکر کہتا ہے کہ اس صورت میں بھی قضائے عمری جائز نہیں؛ کتبِ فقہ کی روشنی میں حکم واضح فرمائیں۔
(جواب) بکر صحیح کہتا کہ اس وقت اسکا قضا پڑھنا جائز نہیں ہے جبکہ وہ صاحب ترتیب نہ ہو یہ اس لیے کہ قضائے عمری کا فرض فوری نہیں ہے چیں جائیکہ اس کے لیے واجب کو ترک کیا جائے بلکہ اس لیے فجر کی سنتوں کا ترک بھی صحیح نہیں ہے جوکہ واجب کے درجہ سے کم ہیں۔ فجر کی سنتوں کا حکم اس لیے مختلف ہے کہ اسے اصل فضیلت کے ساتھ نماز فجر سے قبل ہی ادا کیا جاسکتا ہے بخلاف وقتی نمازوں کی قضا کے کہ انہیں دیگر اوقات میں بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ والله تعالى أعلم.
(سوال) کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ (۱) آج کل زمین وغیرہ کی خرید و فروخت میں بائع و مشتری کے درمیان ایک دلال ہوتا ہے جو دونوں سے اجرت لیتا ہے، کیا اس کا لینا دینا جائز ہے؟ (۲) کسی ہسپتال میں ڈاکٹر کسی شخص سے یہ طے کرے کہ اگر وہ مریض لائے گا تو اسے کمیشن ملے گا، اور اسی بنا پر ڈاکٹر مریض سے زائد فیس وصول کرے، تو اس کا حکم کیا ہے؟
(جواب) (۱) اگر دلال کی اجرت پہلے سے واضح اور متعین ہو، اور بائع و مشتری دونوں اس پر راضی ہوں، اور کسی فریق کے ساتھ دھوکا، فریب یا کتمانِ عیب نہ ہو، تو دلالی کی اجرت لینا دینا جائز ہے جبکہ یہ قابل اجرت محنت و عمل کے عوض ہو۔ (۲) ڈاکٹر کا مریض لانے والے کو کمیشن طے کرنا اگر اس طرح ہو کہ مریض سے بغیر اطلاع زائد فیس وصول کی جائے یا مریض کے حق میں خیانت، دھوکا یا غیر ضروری علاج کیا جائے تو یہ ناجائز ہے؛ کیونکہ یہ امانت میں خیانت اور اکلِ مال بالباطل ہے البتہ اگر دلالی کی صورت ہو جیسی کہ جواب اول میں مذکور ہوئی یعنی جب ڈاکٹر کوئی قیمت اس کے لیے معین کر لے اور اور اس کی خدمت بھی قابل اجرت ہو اور مریض سے اضافی فیس لینا مشروط نہ ہو تو حکم جواز ہے والله تعالى أعلم بالصواب
كتبه: ندیم ابن علیم المصبور العینی
