سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شب برات میں مچھلی پکانا یا مچھلی کھانا کیسا ہے؟
جواب: شبِ برات میں خصوصی طور پر مچھلی پکانا یا اس کو ثواب سمجھ کر لازم سمجھ لینا شرعاً درست نہیں ہے۔
کیونکہ نہ قرآن و حدیث میں، نہ صحابہ اور فقہاءِ کرام کے عمل میں کہیں بھی شب برات کے ساتھ مچھلی پکانے کی کوئی تخصیص ثابت نہیں ہے مچھلی حلال ہے سال کے ہر دن کھائی جا سکتی ہے
اگر کوئی شبِ برات کے دن صرف رسم رواج یا یہ عقیدہ رکھتے ہوئے پکائے کہ یہ ضروری ہے یا ثواب ہے، تو یہ بدعتِ سیئہ میں داخل ہوگا اگر کوئی عام دنوں کی طرح بغیر کسی عقیدے کے صرف کھانا پکائے تو بالکل جائز ہے کوئی حرج نہیں
نبی کریم ﷺ نے شب برات میں عبادت دعا اور استغفار کی ترغیب دی ہے لیکن کسی خاص کھانے یا مشروب کی تخصیص نہیں فرمائی فقہاء کرام نے لکھا جس چیز کو شریعت نے لازم نہ کیا ہو اسے لازم سمجھنا بدعت ہے(فتاویٰ رضویہ، بہار شریعت)
خلاصہ: مچھلی کھانا حلال اور جائز ہے شب برات میں بطور خاص ثواب سمجھ کر پکانا درست نہیں عام کھانے کی طرح پکائیں تو جائز ہے منع نہیں
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ العبد خاکسار ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشنپور فتحپور الھند
