کیا مال دوگنا سے زائد دام پر بیچنا جائز ہے؟؟؟


                السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی سامان دوگنا دام سے زیادہ دام پر بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں

        سائل محمد شاکر رضوی جہاں آباد یو پی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 

                الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

بائع (بیچنے والے) کو اختیار ہے کہ اپنے مال کو کم دام میں بیچے یا زیادہ اس میں از روئے شرع کوئی ممانعت نہیں مگر جھوٹ, دغا, فریب کاری اور مکاری شامل نہ ہو جیساکہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ جس قیمت پر مناسب جانے بیع کرے تھوڑا نفع لے یا زیادہ شرع سے اسکی ممانعت نہیں " اھ (ج:3/ص:181)

          واللہ تعالیٰ اعلم بـاالـــــــصـــــــــواب 

کتبہ اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ 5---جون ---2020---بروز جمعہ
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0