7.16.2020

زانی باپ کی تعظیم و توقیر کرنا کیساہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زانی باپ کی تعظیم و توقیرکرناکیساہے؟ بحوالہ ارسال فرمائیں عین نوازش ہوں گی۔

سائل محمد اکرم شیخ فتحپور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ

            الجواب بعون الملک الوھاب 

باپ زانی ہو یا شرابی لیکن رشتہ وہی پدر کا رہتا ہے لہذا باپ کی تعظیم و توقیر کرنا اولاد پر لازم و ضروری ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا ۔(سورہ بنی اسرائیل آیت ٢٣) حدیث شریف میں ہے عن ابن عباس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من اصبح مطیعا لللہ فی والدیہ اصبح لہ بابان مفتوحان من الجنۃ وان کان واحدا فواحدا ومن اصبح عاصیا لللہ فی والدیہ اصبح لہ بابان مفتوحان من النار ان کان واحدا فواحدا قال رجل و ان ظلماہ قال ان ظلماہ ان ظلماہ ان ظلماہ ترجمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے صبح اس حال میں کی ماں باپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان بردار رہا صبح ہی اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر والدین میں سے ایک ہوں تو ایک دروازہ کھلتا ہے اور جس نے صبح اس حال میں کی ماں باپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نافرمان رہا تو صبح ہی اس کے لئے جہنم کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اگر والدین میں سے ایک ہوں تو ایک دروازہ کھلتا ہے ایک شخص نے کہا ماں باپ اگرچہ اس پر ظلم کریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ماں باپ اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ اس پر ظلم کریں(انوار الحدیث صفحہ ٢٨٢) ایک دوسری حدیث میں ہے عن عبداللہ بن عمرو قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رضی الرب فی رضی الوالد سخط الرب فی سخط الوالد یعنی رب کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور رب کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے(مشکوۃ المصابیح باب البر والصلہ صفحہ ٤١٩) لہذا اولاد پر لازم ہے کہ والد کی تعظیم کرے اگرچہ زانی ہو اگرچہ شرابی ہو کہ یہ والد کا فعل ہے وہ گنہگار ہونگے بیٹے پر جو والد کی تعظیم واجب ہے وہ ترک کرکے کیوں گنہگار بنے البتہ نرمی سے سمجھائے یوم آخرت کی یاد دلائے یا جس طرح ہوسکے اس فعل بد سے دور کردے مگر تعظیم وتوقیر کے ساتھ

        واللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم بالصواب

العبد محمد عمران القادری التنویری غفرلہ ١٨ ذی القعدہ ١٤٤١  ١٠ جولائی ٢٠٢٠

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only