7.17.2020

غیبت کیا ہے نیز کافر کی غیبت کرنا کیسا ہے

السلام علیکم و رحمۃ اللہ تعالیٰ برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ غیبت کیسے کہتے ہیں اور کافر کی غیبت کرنا کیسا ہے جواب عنایت فرمائیں بہت مہربانی ہوگی

سائل؛- محمد نثار احمد غازی پور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

اس کے تعلق سے حجۃالاسلام امام غزالی رحمۃ اللّٰہ علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ (""الغیبت ان تذکر اخاک بما یکرہ‌ لو بلغه سواء ذکرته بنقص فی بدنه او نسبه او فی خلقه او فی فعله او فی قوله او فی دینه او فی دیناہ فی ثوبه وداہ دابته) اپنے مسلمان بھائی کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا کہ اگر اس بات کا ذکر اس کے سامنے کیا جاتا- تو اس کو ناگوار گزرتا- اب چاہے اس بات کا تعلق اس کے بدن سے ہو یا اس کے نسب سے اس کے اخلاق سے ہو یا اس کے قول و فعل سے ہو یا اس کے دین ودنیا سے ہو یہاں تک کہ اس کے کپڑوں مکان یا سواری سے ہو، غیبت کہلاتا ہے﴿احیاء العلوم﴾ ["ماخوذ؛ کنز التعریفات صفحه 115"] اب رہا سوال یہ ہے کہ کافر کی غیبت کرنا کیسا ہے؟ تو اس متعلق حضور فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ فاسق معلن یا بدمذہب کی برائی بیان کرنا جائز ہے، بلکہ اگر لوگوں کو اس کے شر سے بچانا مقصود ہو تو ثواب ملنے کی امید ہے اور جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ ("عن بھز بن حکیم ان ابیه عن جدہ قال قال رسول اللّٰہ ﷺ اترغبون عن ذکر الفاجر متی یعرفه الناس، اذکروا الفاجر بمافیه حذرہ الناس") حضرت بہز بن حکیم رضی اللّٰہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے دادا سے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ فاجر کو برا کہنے سے پرہیز کرتے ہو؟ آخر اسے لوگ کیونکر پہچانیں گے، فاجر کی برائیاں بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں،،، ﴿سنن بیہقی﴾ [ماخوذ؛ انوار الحدیث صفحه 291]

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only