7.02.2020

جھوٹی گواہی دینے والے کے لئے کیا حکم ہے؟؟


                السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ 

مسئلہ:۔ کیافرماتے ہیں علمائے کرا م ومفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں زید ہندہ کو لیکر بکر کے پاس آیا کہ نکاح پڑھا دو جبکہ ہندہ شادی شدہ تھی بکر نے ہندہ کے گاؤں کے بغل کے ایک عالم سے پوچھا کہ اس کا شوہر زندہ ہے کہ نہیں عالم صاحب نے بغیر تصدیق کے کہدیا کی زید مر چکا ہے جبکہ زید ممبئی میں زندہ تھا اور اب گھر آگیا ہے اور وہ ہندہ کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے جبکہ ہندہ اس وقت حمل سے ہے اب اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟اور جس نے نکاح پڑھایا اور جس نے بغیر تصدیق کے گواہی دی اور جس کے ساتھ نکاح ہوا ان لوگوں پر شریعت کا کیا حکم ہے؟بینوا تو جروا     
المستفتی:۔مولوی اقبال احمد میڑکڈیھ مہدیہ بلرام پور
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
             وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکا تہ 

      الجواب بعون المک الوہاب ھو الھادی الی الصواب

شادی شدہ عورت کے ساتھ نکاح کرنا حرام اشد حرام ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے”والمحصنت من النساء“ اور حرام ہیں شوہر دار عورتیں۔(کنز لایمان،پارہ۵ع۱) زید پر لازم ہے کہ ہندہ کو اپنے سے جدا کردے اورزید و ہندہ سچے دل سے علانیہ تو بہ کرلیں بعد تو بہ کا رخیر کریں کہ کار خیر توبہ میں معاون ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ”اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ ٭ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا“مگر جو توبہ کریاور ایمان لائے اور اچھا کام کرے تو ایسوں کی برائیوں کو اللہ بھلا ئیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(کنز لایمان،سورہ فرقان ۷۰) چونکہ ہندہ کا شوہر زندہ ہے اس لئے وہ اپنے شوہر کے گھر جا ئے وہ اسی کی بیوی ہے البتہ اس کا شوہر بچہ پیدا ہو نے تک اس سے ہمبستری نہیں کرسکتا ہاں اگربچہ میں جان نہ پڑی ہو یعنی حمل چار مہینہ کا نہ ہو تو اس حمل کو اسقاط کردے یعنی گرادے کیونکہ وہ ثابت النسب نہیں ہے اور اگر جان پڑ چکی ہے تو اب نہیں گرا سکتے جھوٹی گواہی دینا شرعا جا ئز نہیں خواہ عالم ہویا غیر عالم، حدیث شریف میں سخت وعیدیں موجود ہیں بلکہ قرآم کریم نے قرآن کریم میں بت پو جنے کے برابر شمار فرمایا گیا ہے جیسا کہ سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ تحریر فرما تے ہیں کہ ”جھوٹی گواہی دینے والے پر جو سخت ہولناک وعیدیں ارشاد ہوئی ہیں ہر مسلمان جانتا ہے یہاں تک کہ قرآن عظیم میں اسے بت پوجنے کے برابرشمار فرمایا”قال اللہ تعالٰی فاجتنبوا الرجس من الاوثان واجتنبوا قول الزور حنفاء غیر مشرکین بہ“بتوں کی نجاست سے بچو، جھوٹی بات سے پرہیز کرو، شرک سے بچتے ہوئے اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ (القرآن۲۲/۳۰)رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ”عدلت شہادۃ الزور الاشراک بااللہ عدلت شہادۃ الزور الاشراک بااللہ رواہ ابوداؤد والترمذی وابن ماجۃ عن خریم بن فاتک رضی اللہ تعالٰی عنہ“جھوٹی گواہی خد ا کے ساتھ شریک کرنے کے برابر کی گئی جھوٹی گواہی خدا کے لئے شریک بتانے کے ہمسر ٹھہرائی گئی (جھوٹی گواہی خدا کا شریک ماننے کے مساوی کی گئی) اس کو ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے خریم بن فاتک رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیاہے۔ (سنن ابی داؤد باب فی شہادۃ الزور آفتاب عالم پریس لاہور ۱۵۰/۲)رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ”الا انبئکم باکبر الکبائر قول الزورا وقال شہادۃ الزور۔ رواہ الشیخان عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ“کیا میں تمھیں نہ بتادوں کہ سب کبیروں سے بڑا کبیرہ کون سا ہے، بناوٹ کی بات، یا فرمایا جھوٹی گواہی۔اسے شیخین نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا ہے۔ (صحیح بخاری باب ماقیل فی شہادۃ الزور قدیمی کتب خانہ کراچی ۳۶۲/۱/صحیح مسلم باب الکبائر واکبرھا قدیمی کتب خانہ کراچی۴۶/۱)نیز حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں لن تزول قد ماشاھد الزور حتی یوجب اللہ لہ النار ۔ رواہ ابن ماجۃ والحاکم وصحح سندہ عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنھما“جھوٹی گواہی دینے والا اپنے پاؤں ہٹانے نہیں پاتا کہ اللہ عزوجل ا س کے لیے جہنم واجب کردیتا ہے، اس کو ابن ماجہ اور حاکم نے صحیح قرار دے کر ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا۔ (سنن ابن ماجہ باب شہادۃ الزور ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۷۳)(فتاوی رضویہ جلد ۱۱ص ۲۰۲/۲۰۱/دعوت اسلامی) لہذا امام صاحب پر بھی لازم ہے کہ سچے دل سے تو بہ کریں اور اگر ایسا نہ کریں توسماجی با ئیکاٹ بھی کی جا ئے نیز امامت سے معزول کردیاجا ئے سرکار اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں جھوٹی گواہی دینے والا فاسق ہے اور فاسق کی نماز مکروہ تحریمی ہے۔(فتاوی رضویہ جلد ۶ص۴۹۴/”و“ جلد ۱۵/ص /۱۵۰/دعوت اسلامی) ہاں اگر عالم صاحب کو کسی نے غلط خبر دی تھی یا کہیں سے انہیں معلوم ہوا کہ زید مرچکا ہے اس لئے انھوں نے ایسا کہا تو گنہگار نہ ہو نگے اور نہ ہی ان کی امامت پر کچھ اثر پڑے گا مگر ان سب معاملات میں بلا تحقیق گواہی نہیں دینی چا ہئے نکاح پڑھانے والے،گواہ بننے والے،مجلس میں شرکت کرنے والے بھی گنہگار ہو ئے جب کہ ان سب کو معلوم رہا ہو کہ ہندہ کا شوہر زندہ ہے،تو ایسی صورت میں ان سب پر لازم ہے کہ علانیہ تو بہ کریں اور نکاح خواہ نکاحانہ پیسہ واپس کردے اور جو علانیہ تو بہ نہ کرے اسکاسماجی بائیکاٹ کردیں جیسا کہارشاد ربا نی ہے”وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ“ اور جو کہیں تجھے شیطان بھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔(کنز لایمان،سورہ انعام ۶۸) اور اگر نکاح خواں کو دھوکا دیا گیاہو امام صاحب کی شہادت کی وجہ سے نکاح پڑھائے جیسا کہ سوا ل سے ظاہر ہے تو نکاح خواں گنہگار نہیں.

                          واللہ اعلم بالصواب

کتبہ فقیر تاج محمد قادری واحدی ۵/ ذی القعدہ ۱۴۴١ھ ۲۸/جون ۲۰۲۰ ء بروز بدھ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only