کیا عورتیں واش روم میں مردانہ جوتے پہن سکتی ہیں

اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت واش روم میں جانے کے لئے مردانہ جوتے پہن سکتی ہیں یا نہیں بحوالہ جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

سائلہ گلناز خاتون الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ 

الجواب بعون الملک الوھاب 

اکثر گھر کے واش روم میں مردانہ جوتا رکھ دیا جاتا ہے جسے پہن کر مرد و عورت واش روم میں جاتے ہیں, حالانکہ عورت کیلیے مردانہ جوتا پہننا ناجائز و گناہ ہے چاہے گھر سے باہر پہنے یا گھر میں پہنے, ویسے پہنے یا واش روم میں جانے کے لیے پہنے اور ایسی عورت پر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے.جیسا کہ ابن ابو ملیکہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے عرض کی گئی کہ ایک عورت مردانہ جوتا پہنتی ہے تو آپ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا نے فرمایا لَعَنَ رسولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم الرّجلَۃَ مِنَ النِّسَاءِیعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردانی وضع کی عورت پر پر لعنت فرمائی ہے(سنن ابو داؤد کتاب اللباس ,باب فی لباس النساء جلد4 صفحہ 105بیروت)اور سیدی اعلحضرت امام احمد رضا خان رضی اللہُ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں مرد کو عورت عورت کو مرد سے کسی لباس وضع چال ڈھال میں بھی تشبہ حرام نہ کہ خاص صورت و بدن میں(فتاوی رضویہ جلد 22 صفحہ 664 رضا فاؤنڈیشن لاہور)لہذا اس کا بہتر حل یہ ہے کہ وہ جوتا واش میں رکھ دیا جائے جو مرد و عورت دونوں کیلیے یکساں استعمال ہوتا ہے اور ایسے جوتے مارکیٹ سے بآسانی مل جاتے ہیں اور اگر ایسا جوتا نہ ملے تو پھر مرد کیلیے مردانہ اور عورت کے لیے زنانہ جوتا رکھنا ضروری ہوگا

واللہ اعلم و رسولہ اعلم 

کتبہ العبد خاکسار محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے