بیمار ناپاک ہو جائے تو پاکی کیسے حاصل کریں

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

ایک سوال ہے کہ ایک شخص بیمار ہے اور بیماری کے حالت میں اسے غسل کرنے کی ضرورت پرگی لیکن ڈاکٹر نے غسل کرنے سے منع کیا ہے اب وہ شخص پاک رہنا چاہتا اور وہ شخص نمازی بھی ہے اس کی نماز بھی قضاء ہورہی ہے تو اس کے لیے کیا حکم جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل اکبر علی اویسی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

اگرواقعی اسکویقین کامل ہے اوربیماری اتنی شدیدہےکہ پانی کااستعمال نہیں کرسکتااگرپانی استعمال کرےگاتومرض کےبڑھ جانےگااندیشہ ہے یا کوئی سنی صحیح العقیدہ مسلمان غیرفاسق حکیم یاڈاکٹرکہ دےاس مرض میں پانی سخت مضر ہے تواس صورت میں تیمم کی اجازت ہے جیساکہ شرح وقایہ میں ہے لمرض لایقدرمعہ علیٰ استعمال الما۶اوان استعمل الما۶اشتدمرضہ (جازلہ التیمم) صفحہ٩٧تا٩٨ مجلس البرکات الجامعةالاشرفیة)

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ عبید اللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف

ایک تبصرہ شائع کریں

1 تبصرے

  1. تعزیت نامہ

    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    23 محرم الحرام 1442 ہجری مطابق 12 ستمبر 2020 عیسوی کو جیسے ہی یہ خبر ملی کہ خطیب یورپ وایشیا ؛ شیر ہندوستان؛حافظ احادیث کثیرہ؛ مناظر اہل سنت؛ آفت جان وہابیت؛عطائے حضور مفتی اعظم ہند ؛یادگار اکابر؛ ماہر علوم دینیہ حضرت علامہ مفتی حسین صدیقی المعروف بہ ابوالحقانی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے کوچ کر کے دار بقا پہنچ گئے دل پر رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ گئے
    کیوں کہ قاعدہ کلیہ ہے " موت العالم موت العالم "حضرت کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی ہے اس کی بھرپائی مشکل ہے
    ویسے تو شب و روز کے ہنگاموں میں نہ جانے کتنوں کے بارے میں یہ خبر ملتی ہے کہ وہ ہم سے رخصت ہوگئے
    بہت سوں کے چھوٹ جانے سے دل شدید رنج و غم محسوس کرتا ہے لیکن ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں
    جن کی وفات کی خبر دلوں پر بجلی سی گرادے
    جن کا آفتابِ زندگی مشرق میں غروب ہو تو مغرب والے اندھیرا محسوس کریں ان عظیم شخصیات میں نمایاں طور پر حضرت نور اللہ مرقدہ کی ذات ہے
    حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بے مثال اور خطابت لاجواب وسدا بہار تھی
    ایک مرتبہ کی بات ہے ( فقیر کا طالب علمی کا زمانہ تھا)عرس اعلی حضرت کے موقع پر جامعہ نوریہ رضویہ باقر گنج میں تقریباً چار بجے کا وقت ہوتا حضرت نور اللہ مرقدہ نے دورانِ خطابت ایک جملہ ارشاد فرمایا تھا " اے وہابیوں اس رضا کے شیر کو علم غیب کے ثبوت میں جتنی احادیث کریمہ یاد ہیں
    اتنی تم سب کو مختلف موضوعات پر بھی یاد نہ ہوں گی
    اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ حضرت کی جملہ اولادوں کو صبر جمیل واجر جزیل عطا فرمائے اور حضرت کے درجات کو بلند فرماکر جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے

    آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
    سبزہ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

    ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے
    حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے


    شریکِ غم (مفتی)
    خبیب القادری مدناپوری بریلی شریف یوپی بھارت موبائل 7247863786

    جواب دیںحذف کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ