بغیر کسی غلطی کے لقمہ دے دیا تو نماز کا کیا حکم ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہو برکاتہ 

آپ حضرات کے سامنے ایک سوال ہے کہ امام صاحب کی غلطی نہیں ہوئ اور مقتدی غلط سمجھ کر لقمہ دیا تو مقتدی کی نماز ہوگی یا نہیں دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

اگر واقعی مقتدی نے بے محل لقمہ دیاتو اس مقتدی کی نماز فاسد ہوگی فتاویٰ رضویہ میں بحراٸق سے ہے القیاس فسادھابہ وانماترک للحاجةفعندعدمھایبقی الامرعلی اصل القیاس ( جلدسوم صفحہ٤٢٢) اور ہاں اگر لقمہ دینے والا جب کہ نماز سے خارج ہوگیا اور امام اس کے بتانےسے لوٹا تو امام کی نماز بھی گئی اور اس کے سبب سارےمقتدی لوگوں کی نماز بھی جاتی رہی کسی کی نہ ہوٸی فتاویٰ فیض الرسول ج١ ص٣٩١

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی
🟢 واٹس ایپ
✍️ اس مسئلہ سے متعلق مزید سوال پوچھیں:
✕

🕌 اوقاتِ نماز

اپنے شہر کے اوقات حاصل کرنے کے لیے بٹن دبائیں:
نمازشروع وقتکیفیت
فجر04:45 AMصبح صادق
طلوعِ آفتاب06:05 AMنماز منع ہے
ظہر12:20 PMزوال کے بعد
عصر (حنفی)04:40 PMمثلِ ثانی
مغرب06:30 PMغروبِ آفتاب
عشاء07:55 PMشفق کے بعد
✕

🧭 سمتِ قبلہ (خانہ کعبہ کا اصل رخ)

شمال (North 0°) سے کعبہ شریف کی اصل ڈگری:
272° مغرب
مقام: برصغیر / بھارت (عین کعبہ بیرنگ)
N (شمال)
S (جنوب)
E (مشرق)
W (مغرب)
طریقہ: اپنے موبائل کو شمال (North) کی سمت سیدھا کریں۔ ہری سوئی قبلہ شریف (مغرب) کی طرف رخ کرے گی۔
✕

🧮 شرعی زکوٰۃ کیلکولیٹر

✕

📿 ڈیجیٹل تسبیح

0