اہم اعلان
دار الافتاء میں آپ کا خیر مقدم ہے۔ اپنے شرعی سوالات کے مستند جوابات کے لیے رابطہ فرمائیں۔
شرعی فتویٰ

بغیر کسی غلطی کے لقمہ دے دیا تو نماز کا کیا حکم ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہو برکاتہ 

آپ حضرات کے سامنے ایک سوال ہے کہ امام صاحب کی غلطی نہیں ہوئ اور مقتدی غلط سمجھ کر لقمہ دیا تو مقتدی کی نماز ہوگی یا نہیں دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

سائل محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب 

اگر واقعی مقتدی نے بے محل لقمہ دیاتو اس مقتدی کی نماز فاسد ہوگی فتاویٰ رضویہ میں بحراٸق سے ہے القیاس فسادھابہ وانماترک للحاجةفعندعدمھایبقی الامرعلی اصل القیاس ( جلدسوم صفحہ٤٢٢) اور ہاں اگر لقمہ دینے والا جب کہ نماز سے خارج ہوگیا اور امام اس کے بتانےسے لوٹا تو امام کی نماز بھی گئی اور اس کے سبب سارےمقتدی لوگوں کی نماز بھی جاتی رہی کسی کی نہ ہوٸی فتاویٰ فیض الرسول ج١ ص٣٩١

واللہ اعلم باالصواب 

کتبہ عبیداللہ بریلوی خادم التدریس مدرسہ دارارقم محمدیہ میرگنج بریلی شریف یوپی

دار الافتاء میں اپنا شرعی سوال ارسال کریں

اپنا مسئلہ تحریر کریں، ان شاء اللہ جلد جواب دیا جائے گا

فہرستِ ابواب و کتبِ فقہ

موضوع اور زمرے کے اعتبار سے فتاویٰ کی فہرست