اللہ تعالیٰ کے لئے تو کا جملہ استعمال کرنا کیسا

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

سوال ایک اسلامی بھائی کا سوال ہے سنی لوگ اللہ کو تو کر کے یاد کرتے ہیں جب کہ وہابی لوگ آپ کر کے یاد کرتے ہیں. بہ طورے ادب وہابی کا بلانا صحیح ہے ایسے میں علمائے کرام رہنمائی فرمائیں کے کس کا بلانا صحیح ہے اور سنی تو کر کے کیوں بلاتے ہیں مدلل حوالے کے ساتھ قلم بند فرمائیں

سائل محمد ضیاء الحسن الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب 

آپ کا جملہ بنیت تعظیم درست ہے  لیکن احتیاط اس میں ہے کہ بہ ہمہ وجوہ اس کی شان یکتائی ظاہر کرنے کیلئے واحد کا صیغہ استعمال کیا جائے یہی مسلمانوں میں رائج ہے مسلمانوں میں جو طریقہ رائج ہوا اور اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو اس کے خلاف کرنا شورش پھیلانا ہے اس لئے اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہنے سے احتراز چاہیے، نیز دیوبندی اکابر واحد کا صیغہ استعمال کرتے تھے مگر دیوبندی اصاغر نے مسلمانوں میں شورش پھیلانے کیلئے جمع کا صیغہ استعمال کرنا شروع کردیا ہے البتہ اہلسنت کو اس سے احتراز چاہیے جیساکہ فتاویٰ برکات رضا میں ہے کہ
اللہ عزوجل کو ضمائر مفرد سے یاد کرنا مناسب ہے کہ وہ واحد فرد وتر ہے تعظیمًا ضمائر جمع میں بھی حرج نہیں اس کی نظیر قرآن مجید میں ضمائر متکلم میں تو صدہا جگہ ہے انا نحن نزلنا الذکری وانا له لحٰفظون اور ضمائر خطاب میں صرف ایک جگہ ہے وہ بھی کلام کافر سے کہ عرض کرے گا رب ارجعون اعمل صالحا اس میں علماء کرام نے تاویل فرما دی ہے کہ ارجع کی جمع باعتبار تکرار ارجع ارجع ارجع ضمائر غیبت میں ذکر مرجع صیغہ جمع فارسی اور اردو میں بکثرت بلانکیر رائج ہیں زرویت ماہ تاباں آفریدند زقدت سروبستاں آفریدند ایسی جگہ لوگ قضا وقدرت کو مرجع بتاتے ہیں بہرحال یونہی کہنا مناسب ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مگر اس میں کفر وشرک کا حکم کسی طرح نہیں ہوسکتا نہ گناہ ہی کہا جائے گا بلکہ خلاف اولی[ماخوذ فتاویٰ برکات رضا جلد اول صفحه 52 ]مزید معلومات کے لئے فتاویٰ شارح بخاری جلد اول کتاب العقائد صفحه 134 اور تفہیم المسائل جلد دوم صفحه 11 ضیاء القرآن پبلیکیشنز لاہور کراچی کا مطالعہ کریں مفید ثابت ہوگا

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے