نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیر کہنا کیسا ہے

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فقیر کہنا کیسا ہے رہنمائی فرماۓ عین نوازش ہوگی

سائل محمد اکرم شیخ ایڈووکیٹ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

نبی کی تعظیم فرضِ عین بلکہ اصلِ تمام فرائض ہےچنانچہ اللہ عزوجل فرماتا ہے اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًاۙ۰۰۸ لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ١ؕ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِيْلًا} پ 26 الفتح آیت 9 وفي جواہر البحار ج3 ص260 (إنّ اللّٰہ فرض علینا تعزیر رسولہ، وتوقیرہ) تفسیر روح البیان میں ہے کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تکذیب کفر ہے تفسیر روح البیان پ10 التوبۃ ج3 ص394 تحت الآیۃ 12 (واعلم أنّہ قد اجتمعت الأمّۃ علی أنّ الاستخفاف بنبینا وبأي نبيکان من الأنبیاء کفر سواء فعلہ فاعل ذلک استحلالاً أم فعلہ معتقداً بحرمتہ، لیس بین العلماء خلاف في ذلک إلخ)( بہار شریعت حصہ اول عقائد متعلقہ نبوت عقیدہ 23) چونکہ فقیر کا لغوی معنی ہے گدا بھکاری منگتا درویش قلندر خدا پرست غریب محتاج شریعت اسلامی کی رو سے جس کے پاس صرف ایک دن کا کھانا ہو جمع فقرا ( فیروز اللغات صفحہ 935 ) لہذا فقیر کہنے میں کچھ معنوں کے اعتبار سے درست ہے مگر عرفی اعتبار سے معیوب ہے اس لیے حضورﷺ کو فقیر کہنا منع ہے کیونکہ اس سے عوام بد ظن ہو گی اور کچھ کا کچھ معنی مراد لے گی، 


واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

 کتــــــبـہ فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ۱٦/ محرم الحرام ١٤٤٢ہجری ۵/ ستمبر ۲۰۲۰عیسوی بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے