10.23.2020

عورت کو دو طلاق دے دیا تو کیا حکم ہے



 السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ 

کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کہ زید و ہندہ میاں و بیوی ہیں آپسی گفت و شنید کے بعد ہندہ مائکہ چلی گئی زید رخصتی کے لئے پہونچا وہاں بھی کچھ گفت و شنید ہوئی درمیان گفت و شنید لفظ طلاق کا استعمال کیا بعدہ گھر واپس آیا اور چند لوگوں کے مابین بیان دیا کہ میں نے اس کو طلاق دے دیا ہے راف صاف کر کے آ گیا ہوں بذریعے فون عمرو سے کہا کہ میں نے فائنل کر دیا ہے اب صرف کمانا کھانا ہے عمرو نے پوچھا کیا طلاق دے دیئے ہو زید نے جواب دیا ہاں طلاق دے دیا ہوں. پھر عمر نے پوچھا بابو کیا ہوا زید نے جواب دیا ہم کلیر کر دیئے عمر نے پوچھا. کیا کلیر کئے زید نے جواب دیا ہم راف صاف کر دیئے طلاق دے دیئے۔خالد اچانک چائے وقوع پر پہونچا تھا تو خالد نے دو طلاقیں دیتے ہوئے سنا تھا۔زید اور بکر پھر رخصتی کیلئے گئے ہندہ نے بکر سے کہا میں اس کے ساتھ کیوں جاؤں گی جبکہ مجھے حلالہ کرنا ہوگا. جواب ہندہ کے بعد بکر نے ہندہ سے پوچھا کیا تم نے سنا ہے؟ہندہ نےجواب دیا میں نے خود سنا ہے اور ٹھہرے سارے لوگ سنے ہیں لہٰذا دریافت طلب امر یہ ھیکہ گاؤں کی کمیٹی کے سامنے زید نے اقرار بھی کیا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی ہے شریعت کا جو حکم ہوگا میں اسے تسلیم کروں گا توبہ بھی کیا اور ہندہ کو مائکہ بھیج دیا حکم شرع صادر فرما کر عبداللہ ماجور ہوں

المستفتی جملہ اراکین غوث نگر لوہردگا جھارکھنڈ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرْکَتَہُ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسٶلہ میں طلاق رجعی واقع ہوئی کیونکہ خالد نے دو طلاق دیتے ہوئے زید کو سنا ہے زید نے تین طلاق نہیں دیا اور نہ ہی سوال میں تین طلاق کا کہی ذکر ہے ہاں سوال میں دو طلاق کا ذکر ہے اور دو طلاق سے طلاق رجعی پڑتی ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ‌ ۖ فَاِمۡسَاكٌ ۢ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ تَسۡرِيۡحٌ ۢ بِاِحۡسَانٍ‌ ؕترجمہ یہ طلاق دو بار تک ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دینا ہے( سورۃ البقرة آیت نمبر 229) اگر زید اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہے اور پریشان کرنا اسکا مقصد نہیں ہے تو رجعت کر لیں اور اگر پریشان کرنا مقصد ہے تو چھوڑ دینا بہتر ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ وَاِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغۡنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ اَوۡ سَرِّحُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ‌ ۖ وَلَا تُمۡسِكُوۡهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعۡتَدُوۡا‌ ۚ وَمَنۡ يَّفۡعَلۡ ذٰ لِكَ فَقَدۡ ظَلَمَ نَفۡسَهٗ ‌ؕ ترجمہ اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور ان کی میعاد آلگے تو اس وقت تک یا بھلائی کے ساتھ روک لو یا نکوئی (اچھے سلوک) کے ساتھ چھوڑ دو اور انہیں ضرر دینے کے لئے روکنا نہ ہو کہ حد سے بڑھو اور جو ایسا کرے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے ( القرآن سورۃ نمبر 2 البقرةآیت نمبر 231 ) خلاصہ کلام یہ ہے کہ زید اپنی بیوی کو بلا نکاح بلا حلالہ رکھ سکتا ہے یعنی کہ رجعت کر سکتا ہے البتہ جب کبھی دوبارہ ایک طلاق دیگا تو پھر طلاق مغلظہ واقع ہو جائے گی تو پھر بغیر حلالہ کے نہیں رکھ سکے گا


واللہ و رسولہ اعلم باالصواب


کتبـــــــــــــــــــــــــــہ العبـــد خاکســـار ناچیـــز محمـــد شفیـــق رضـــا رضـــوی خطیـــب و امـــام سنّـــی مسجـــد حضـــرت منصـــور شـــاہ رحمتـــ اللـــہ علیـــہ بـــس اسٹاپـــ کشـــن پـــور الھنـــد

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only