10.25.2020

کیا جشن عید میلاد النبی منانا بدعت ہے

 


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ 

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  وہابی کہتے ہیں کہ جشن عید میلاد النبی منانا بدعت ہے تو عرض ہے کہ آپ مجھے بتائیں کیا میلاد النبی ماننا بدعت ہے مدلل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی 

المستفتی غلام رسول

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت نہیں ہے بلکہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے کیونکہ خود پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ولادت کے دن روزہ رکھ کر عید منایا ہے اور وہابی کا یہ کہنا کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا یا ہرنیا کام گمراہی ہے دُرست نہیں کیونکہ بدعت کی ابتدائی طور پر دو قسمیں ہیں بدعتِ حسنہ اور بدعتِ سیّئہ۔ بدعتِ حسنہ وہ نیا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہ ہو جیسے مَوْلِد شریف کے موقع پر محافلِ میلاد جلوس سالانہ قراءَت کی محافل کے پروگرام ختم بخاری کی محافل وغیرہ۔بدعتِ سیّئہ وہ ہے جو کسی سنّت کے خلاف یا سنّت کو مٹانے والی ہوجیسے غیرِ عربی میں خُطبۂ جُمعہ و عیدین چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ رحمۃ اللہ القوی اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نکلا اور ظاہر ہوا بدعت کہلاتا ہے پھر اس میں سے جو کچھ اصول کے موافق اور قواعد سنّت کے مطابق ہو اور کتاب و سنّت پر قیاس کیا گیا ہو بدعتِ حسنہ کہلاتا ہے اور جو ان اصول و قواعد کے خلاف ہو اسے بدعتِ ضلالت کہتے ہیں۔ اور کل بدعۃ ضلالۃ کا کلیہ اس دوسری قسم کے ساتھ خاص ہے۔(اشعۃ اللمعات مترجم ج1 ص422)بلکہ حدیث پاک میں نئی اور اچّھی چیز ایجاد کرنے والے کو تو ثواب کی بشارت ہے۔ چنانچہ مسلم شریف میں ہے مَنْ سَنَّ في الإسلامِ سنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أجْرُهَا، وَأجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ، مِنْ غَيرِ أنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورهمْ شَيءٌ وَمَنْ سَنَّ في الإسْلامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيهِ وِزْرُهَا، وَ وِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ، مِنْ غَيرِ أنْ يَنْقُصَ مِنْ أوْزَارِهمْ شَيءٌ ترجمہ: جو کوئی اسلام میں اچھا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے تمام کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی ثواب ملے گا اور ا ن کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ اور جو شخص اسلام میں بُرا طریقہ جاری کرے تو اس پر اسے گناہ ملے گا اور اس کے بعد جتنے لوگ اس پر عمل کریں گے ان سب کے برابر اس جاری کرنے والے کو بھی گناہ ملے گا اور ان کے گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی (مسلم ص394حدیث:1017)جشنِ ولادت منانا بھی ایک اچّھا کام ہے جو کسی سنّت کے خلاف نہیں بلکہ عین قرآن و سنّت کے ضابطوں کے مطابِق ہے۔ رب تعالیٰ کی نعمت پر خوشی کا حکم خود قرآنِ پاک نے دیا ہےاللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ( قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-) ترجمۂ کنز الایمان تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں۔(پ11 یونس :58) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ( وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ۠(۱۱) (پ30 والضحٰی:11) ترجمۂ کنز الایمان: اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔خود حضورِ اکر م صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنا یومِ میلاد روزہ رکھ کر مناتے چنانچہ آپ ہر پیر کو روزہ رکھتے تھے جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا اسی دن میری ولادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وحی نازل ہوئی(مسلم ص455 حدیث:2750) خلاصۂِ کلام یہ کہ شریعت کے دائرہ میں رہ کر خوشی منانا مختلف جائز طریقوں سے اِظہارِ مَسرّت کرنا اور محافلِ میلاد کا انعقاد کر کے ذکرِ مصطفےٰ کرتے ہوئے ان پر مسرت و مبارک لمحات کو یاد کرنا جو سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے کا وقت ہے بہت بڑی سعادت مندی کی بات ہے۔مزید تفصیل کے لئے علمائے اہلِ سنّت کی کتب کا مطالعہ فرمائیں۔۔(بحوالہ فتاوی اہلسنت ماہنامہ فیضان مدینہ دعوت اسلامی ربیع الاول ۱۴۴۰ ہجری نومبر،دسمبر ۲۰۱۸)


واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۰۶ ربیع الاول ۱۴۴۲ ہجری ۲۴ اکتوبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز ہفتہ

ایک تبصرہ شائع کریں

براۓ مہربانی کمینٹ سیکشن میں بحث و مباحثہ نہ کریں، پوسٹ میں کچھ کمی نظر آۓ تو اہل علم حضرات مطلع کریں جزاک اللہ

فـہـرسـت گـــــروپ مـنـتـظـمـیـن

...
رابـطـہ کــــریـں

Whatsapp Button works on Mobile Device only