جس بکرے نے کتیا کا دودھ پیا ہو اسکے گوشت کا فاتحہ دلانا کیسا ہے



 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فراماتے ہیں علماے کرام اس مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک صاحب کے یہاں بکرا ہے جو بچمن میں کتیا کا دودھ پیتا تھا تو اسپے گیارہویں شریف کی فاتحہ ہوسکتی یا نہیں


ساٸل کلیم رضا بہراٸچ شریف یوپی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

جس بکرے نے کتیا کا دودھ پیا ہو یا کسی بھی جانور کا دودھ پیا اور اس کے بعد میں دودھ چھوڑ دیا چارہ وغیرہ کھانے لگا تو اس کا نیاز، فاتحہ گوشت سب بلا شبہ بلا کراہت جائز ہے کوئی حرج نہیں۔ البتہ جن ایام میں نیازو فاتحہ کرنا چاہ رہا ہے اور انہی ایام میں بکرا نے کتیا کا دودھ پیا ہے تو کراہت ہے۔لیکن بالکل ظاہر ہے کہ لوگ ایسے بکرے کو ذبح کرتے ہیں جو دودھ نہیں پیتے۔ بلکہ چارہ وغیرہ کھاتے ہیں اسی کو ذبح کرتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ جو دودھ پیا ہوگا وہ بچپن ہی میں پیا ہوگا لہذا اس کے فاتحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ قربانی کرنے کے متعلق سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر ایسا سیانا ہوگیا کہ دودھ چھٹے کچھ مدت گزری جب تو بالاتفاق بلاکراہت حلال ہے۔ یونہی دودھ پیتے کو چند روز اس دودھ سے جدا رکھ کر حلال جانور کا دودھ یا چارا دیا اور اس کے بعد ذبح کیا جب بھی بالاتفاق بے کراہت حلال ہے۔ اور اگر اسی حالت میں ذبح کرلیا تو اس کا کھانا مکروہ ہے۔ اس صورت میں کراہت بھی محل نزاع نہیں ہاں اس میں اختلاف ہے کہ یہ کراہت تنزیہی ہے یعنی کھانا بہترنہیں اور کھالے تو گناہ نہیں یا تحریمی یعنی کھانا ناجائز وگناہ ہے۔ عامہ کتب میں معتمدہ مذہب مثل نوازل وخلاصہ وخانیہ وذخیرہ وبزازیہ وتبیین الحقائق وتکملہ لسان الحکام للعلامۃ ابراہیم حلبی ودرمختار وغیرہا میں قول اول ہی پر جزم فرمایا اور خود محرر مذہب سیدنا امام محمدرحمہ اللہ تعالٰی علیہ سے اس پر نص صریح آیا اور شک نہیں کہ وہی اقوٰی من حیث الدلیل ہےدرمختارمیں ہے حل اکل جدی غذی بلبن خنزیر لان لحمہ لایتغیر وماغذی بہ یصیر مستہلکا لایبقی لہ اثر بھیڑ کے جس بچے نے خنزیر کا دودھ بطور خوراک پیا تو اسے کھانے میں حرج نہیں ہے کیونکہ اس کا گوشت متغیر نہ ہوا اور جو خوراک دی گئی وہ ہلاک ہوگئی اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا خلاصہ میں ہے فی النوازل لو ان جدیا غذی بلبن الخنزیر فلا باس باکلہ، فعل ہذا قالوا لاباس باکل الدجاج الذی یخلط ولا یتغیر لحمہ والذی روی عن رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ قال تحبس الدجاجۃ ثلثۃ ایام کان للتنزیہ۱؎ (باختصار) نوازل میں ہے جو بچہ خنزیر کے دودھ کی خوراک سے پرورش پایا اس کو کھانے میں حرج نہیں ہے اسی لئے فقہاء نے فرمایا جو مرغ گندگی کھائے اور اس کا گوشت متغیر نہ ہو تو کھانے میں حرج نہیں ہے او ر حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد کہ مرغی کو تین دن قید رکھ کر ذبح کیا جائے یہ ارشاد تنزیہ کے طور پر ہےذکر محمد رحمہﷲ تعالٰی جدی او حمل یرضع بلبن الاتان یحل اکلہ ویکرہ ردالمحتارمیں ہے فی شرح الوہبانیۃ عن القنیۃ راقما انہ یحل اذا ذبح بعد ایام والا لا ۳؎ شرح وہبانیہ میں قنیہ سے نقل کیا کہ اگر چند روز کے بعد ذبح کیا تو حلال ہے ورنہ نہیں سیدا بو السعود ازہری فتح اللہ المعین حاشیہ کنزمیں فرماتے ہیں الجدی اذا ربی بلبن الا تان، قال ابن المبارک یکرہ اکلہ قال واخبرنی رجل عن الحسن قال اذا ربی الجدی بلبن الخنزیر لاباس بہ۔ قال معناہ اذا اعتلف ایاما بعد ذٰلک کالجلالۃ کذا بخط شیخنا عن الخانیۃ ۱؎ حوالہ فتاوی رضویہ ج ۲۰ ص ۲۵۶ تا ۲۵۹ دعوت اسلامی


 واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب


از قلم فقیر محمد اشفاق عطاری خادم دارالافتاء سنی شرعی بورڈ آف نیپال ۰۸ ربیع الغوث ۱۴۴۲ ہجری ۲۴ نومبر ۲۰۲۰ عیسوی بروز منگل۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے