کافر کے گھر اسکے بنائے ہوئے کھانے پر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کسی غیر مسلم کے گھر پراس کے بنائے ہوئے کھانے پر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے جائز ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں


 المستفتی محمد حسنین رضا ممبر آف 1️⃣گروپ یارسول اللہ ﷺ

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 وَعَلَیْکُمْ اَلسَّــلاَمُ وَرَحْمَتُہ اللّٰہِ وَبَـرْکَاتُـہْ


الجواب اللھم ہدایتہ الحق والصواب

 

ہندوں کے گھر کے بنے ہوئے کھانے پر فاتحہ دینا جائز نہیں البتہ ہندوں کے دوکان پر جو مٹھائ بنتی ہے اسے خریر کر یا اسے اپنا کر کر اس پر فاتحہ دے سکتے ہیں کیوںکہ کافر کی کوئ عمل قابل قبول نہیں حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کـہ ہندو سے شیر ینی لیکر اپنی کرکے اپنے آپ فاتحہ دے کر اپنی سمجھ کر تقسیم کردیں ہندوں کی چیز پر فاتحہ نہیں ہو سکتی ( فتاوی مصطفویہ جلد اول ص ۴۵۳ ) حضور فقیہ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ غیر مسلم کی شیرینی پر فاتحہ دینا اور اس کے ثواب پہنچنے کا اعتقاد کرنا جائز نہیں کہ اس کی کوئ نیاز کوئ عمل قبول نہیں فتاوی رضویہ میں ہے کافر ومشرک کا کوئ عمل للّٰہ نہیں فان الکفر ھوالجھل باللہ فاذا جھلہ فکیف یعمل لہ اھ( فتاوی رضویہ جلد ۹ ص ۶۵ ) 


واللہ اعلم باالصواب 

کتبــــہ فقیر محمد محبوب عالم امجــدی مقام آزاد نگر نچلول ضلع مہراجگنج یوپی الہند رابطہ نمبر 

7991712002 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے